جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید فلسطینی بچوں پر پرتشدد حربے استعمال کئے جانے کا انکشاف

datetime 27  اکتوبر‬‮  2018 |

رام اللہ(این این آئی) فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینی بچوں پر صہیونی جلاد طرح طرح کے پرتشدد حربے استعمال کرتے ہیں، انہیں سخت ترین جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی ایذائیں دی جاتی ہیں،رپورٹ میں تین بچوں کے بیانات قلم بند کیے گئے جنہیں حراست میں لینے کے بعد عقوبت خانوں میں ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق 16 سالہ خلف نجاجرہ نے بتایا کہ اسے اسرائیلی فوج بیت لحم کے علاقے نحالین سے صبح کے حراست میں لینے کے آئی۔ اسے سوئے ہوئے جگایا اور بار اس کے سر میں ضربیں لگائیں گئیں۔ حراست میں لینے کے بعد اسے ایک عقوبت خانے میں الٹا لٹکا دیا گیا۔ قابض فوجی جلاد اسے بیلٹوں کے ساتھ تشدد کا نشانہ بناتے۔ فوجی جیپ میں لے جاتے ہوئے بار بار اس کے سر کو جیپ کے اطرف میں لوہے کی سلاخوں کے ساتھ مارا جاتا، جسکے نتیجے میں عوفر حراستی مرکز تک پہنچنے سے قبل ہی خون میں لت پت تھا۔فلسطینی لڑکے نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی اسے گالیاں دیتے اور مسلسل مارتے، دوران حراست اسے بار بار بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے۔ایک دوسرے لڑکے 17 سالہ ڈینینل ابو نصرہ جس کا تعلق بیت المقدس کے علاقے الطور سے ہے کا کہنا ہے کہ اسے بھی ’البرید‘ پولیس سینٹر لے جایا گیا۔ اسے جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی جاتیں۔ انتہائی گندی گالیاں دی جاتیں اور تشدد کیلئے بجلی کے جھٹکے تک لگائے جاتے۔ اسے بھی بار بار سر میں ضربیں لگائی جاتیں۔غرب اردن کے شمالی شہر نابلس کے 16 سالہ محمد حشاش نے بتایا کہ اسے ’الون موریہ‘ یہودی کالونی کے قریب سے حراست میں لیا گیا۔ قابض فوجیوں نے اسے گرفتار کرنے کے بعد منہ کے بل زمین پر گرایا۔ اس کے دونوں ہاتھ پشت پر سخت کر کے باندھ دیے گئے اورآنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ اس کے بعد یہودی جلاد اسے تشدد کا نشانہ بناتے۔ اس کے سرمیں ضربیں لگائی جاتیں۔ گالیاں دی جاتیں اور تشدد کے دیگر مجرمانہ اور مکروہ حربے استعمال کئے جاتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…