جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

میں اس وفاقی وزیرکی بھرتی کیلئے سفارش کرونگا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حیران کن بیان دیدیا،عمران خان کے کس وزیر کو کس محکمے میں بھرتی کروانا چاہتے ہیں؟جانئے

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی (نیوز ڈیسک)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی کو غلط معلومات نہیں دیں گے۔ واٹر بورڈ میں آسامی ہوئی تو کہوں گا کہ فیصل واوڈا کو بھرتی کرلے، پاکستان کوارٹرز کی جگہ سندھ کی نہیں وفاق کی ہے۔پولیس آپریشن کو روک دیا ہے، ہم اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔بدھ کو کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے

ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی وزیر آبی وسائل اور پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کو والو مین کی نوکری کی پیش کش کر دی۔انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ میں آسامی ہوئی تو کہوں گا کہ فیصل واوڈا کو بھرتی کرلے، پاکستان کوارٹرز کی جگہ سندھ کی نہیں وفاق کی ہے۔انہوں نے کہاکہ والو بند کرنا اور کھولنا کسی اور کا کام ہے، فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ انہیں والو بند کرنا اور کھولنا آتا ہے، اگر کوئی ویکسنی ہوئی تو واٹربورڈ کو کہیں گے ان کا انٹرویو لیں اور اگر وہ میرٹ پر اترتے ہیں تو انہیں نوکری دیں، اس طرح ان کا شوق پورا ہوجائے گا۔انہوںنے کہا کہ جے آئی ٹی نے بہت زیادہ معلومات اور 46 ٹھیکے داروں کی دس سال کی تفصیلات مانگی ہیں انہیں جمع کرنے میں وقت درکار ہے، ہم وہ معلومات جمع کررہے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ مقدمے میں سندھ حکومت کے دس سال کے تمام اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگی گئی ہیں، حکومت کے تقریبا 27 ہزار اکانٹس ہیں انہیں جمع کرنے میں وقت لگے گا، شاید سپریم کورٹ کو اس معاملے میں درست نہیں بتایا گیا، سندھ حکومت جے آئی ٹی سے کچھ نہیں چھپائی گی یا غلط معلومات نہیں دے گی، جے آئی ٹی نے مجھے بھی بلایا تو حاضر ہوں گا۔وزیر اعلی سندھ نے پاکستان کوارٹرز کے معاملے پر کہا کہ یہ مکانات سپریم کورٹ کی ہدایت پر خالی کرائے جارہے ہیں، عدالتی احکامات ایسے نہیں ہونے چاہئیں جس سے امن و امان کا

مسئلہ پیدا ہو، ہم عدالت کے حکم کے پابند ہیں، معاملے میں تشدد نہیں ہونا چاہئیے اس لیے پولیس آپریشن کو روک دیا ہے، ہم اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکانٹس کیس کی سماعت میں جے آئی ٹی کے سربراہ احسان صادق نے بتایا تھا کہ سندھ حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اور متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جارہا، تعاون کے لیے تحریری درخواست دینے کے باوجود سیکرٹری توانائی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…