پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’’انہیں فوری طور پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے‘‘ وزیراعظم عمران خان نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا، پاکستانی عوام کو ایسی خوشخبری سنا دی کہ جان کر آپ بھی جھوم اٹھیں گے

datetime 22  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے بجلی چوروں کے خلاف فوری طور پر کریک ڈاؤن کرنے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے اور پاور سیکٹر میں چوری و دیگر نقصانات کی وجہ سے صارفین پر پڑنے والے اضافی بوجھ ہٹانے کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پیر کو انرجی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا ۔

اجلاس میں ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ موجودہ حکومت کی جانب سے آئندہ 25سالوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع انرجی پالیسی و لائحہ عمل تشکیل دیاجا رہا ہے تاکہ جہاں گھریلو، صنعتی و دیگر شعبہ جات کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل کے لئے توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے وہاں انرجی مکس کا حصول، ملک میں موجود وسائل کا مکمل استعمال، قابل تجدید ذرائع کا فروغ اور انرجی پالیسی کے لئے منظم و مربوط فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے اور پاور سیکٹر میں چوری و دیگر نقصانات کی وجہ سے صارفین پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو ہٹانے کے لئے ہدایت کی ۔اس ضمن میں بجلی چوروں کے خلاف فوری طور پر کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی دوسرے کی چوری اور بد انتظامی کا خمیازہ عوام بھگتیں یہ قابل قبول نہیں۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی چوری کی روک تھام کے سلسلے میں حکومت پنجاب کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ کی زیرِ نگرانی خصوصی ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔ضلعی سطح پر متعلقہ ڈی سی اوز بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کی نگرانی کریں گے۔ اس سلسلے میں دیگر صوبوں کو بھی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ بجلی کی ترسیل و تقسیم کو بہتر بنانے کے لئے وسیع پیمانے پر ٹیکنالوجی کے استعمال کو برؤے کار لایا جا رہا ہے

تاکہ جہاں ترسیلی نظام کو بہتر بنایا جا سکے وہاں تقسیم اور چوری جیسے مسائل کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعظم عمران خان نے پاور ڈویڑن کو معیاری ٹرانسفارمرز کی دستیابی کو یقینی بنانے سے متعلقہ مسائل کے حل کے لئے مختلف کمپنیوں کی شمولیت کے لئے جامع پلان پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں تیل اور گیس کی دریافت و پیداوار پر

خصوصی توجہ دی جائے ۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ شیل گیس کے موجود ذخائر میں پاکستان دنیا بھر میں نویں نمبر پر شمار کیا جاتا ہے تاہم اس ذخائر کو برؤے کار لانے پر ماضی میں کسی قسم کی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ گذشتہ ساڑھے پانچ سالوں میں تیل و گیس کی دریافت کے لئے ایک بلاک بھی ایوارڈ نہیں کیا گیا۔ موجودہ حکومت کی جانب سے اب تک 10 بلاک مکمل طور پر شفاف عمل سے

مختلف کمپنیوں کو ایوارڈ کیے جانے کا عمل حتمی مراحل میں ہے جسے چند روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔ مزید30بلاکس ایوارڈ کرنے کے سلسلے میں خصوصی اقدامات کیے جائیں گے جن میں بین الاقوامی طور پر روڈ شوز کا انعقاد بھی شامل ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ تیل و گیس ذخائر کی دریافت کے لئے ملک کے 41فیصد حصے پر واقع مختلف بلاکس ایوارڈ کیے گئے جن میں

اب تک صرف4فیصد پر کام کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ملک میں تیل و گیس کی دریافت کی راہ میں حائل عوامل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ ملک میں موجود تیل و ذخائر کی دریافت کے عمل کو تیز کرنے کے لئے سیسمک سروے اوجی ڈی سی ایل سے کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ تیل اور گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں کو سیکورٹی کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لئے فوری طور پر

اقدامات کا فیصلہ، صوبہ خیبر پختونخواہ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی مدد سے تیل و گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں تیل اور گیس دریافت کرنے کے شعبے میں حائل مشکلات کو دور کرکے پاکستان چھوڑ کر جانے والی غیر ملکی کمپنیوں کو واپس لایا جا سکتا ہے۔ وزیرِ اعظم کی جانب سے تیل و گیس دریافت کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی ایگزان کی پاکستان واپسی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کے سلسلے پاکستان آنے والی تمام غیر ملکی کمپنیوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…