پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستانی اقدامات غیر تسلی بخش قرار،اے پی جی وفد نے اپنی مشاہداتی رپورٹ سے حکام کو آگاہ کردیا،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کے وفد نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستانی اقدمات کو بین الاقوامی معیارات کے تناظر میں غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہاگیا ہے کہ اے پی جی وفد نے اپنی مشاہداتی رپورٹ سے تمام متعلقہ اداروں کے حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

رپورٹ میں قوانین، قواعد و ضوابط اور میکانزم میں خرابیوں اور اداروں کی خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس رفتار سے کام کر کے پاکستان فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے باہر نہیں آسکتا۔پاکستان آنے والے وفد نے اس سلسلے میں وزارت خزانہ، داخلہ، خارجہ اور قانون، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی (نیکٹا)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی ار)، قومی احتساب بیورو (نیب)، انسدادِ منشیات فورس، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، سینٹرل ڈائریکٹوریٹ ا?ف نیشنل سیونگز اور انسدادِ دہشت گردی کے صوبائی محکموں سے مشاورت کی۔وفد نے ان اداروں کو بتایا کہ وہ اپنی مرتب کردہ رپورٹ 19 نومبر کو پاکستان کو پیش کر دے گا جس کے بعد پاکستان کو اس حوالے سے 15 دن کے اندر اپنا جواب جمع کروانا ہوگا، جس کا جائزہ لے کر اے پی جی پیرس میں ایف اے ٹی ایف کو اپنی عبوری رپورٹ پیش کرے گا۔واضح رہے کہ اے پی جی وفد آئندہ برس مارچ اور اپریل میں دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گا جس میں ایک بار پھر اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، بعد ازاں اس کی رپورٹ جولائی 2019 میں عوام کے سامنے پیش کردی جائے گی۔خیال رہے کہ حکام کو واضح طور پر بتایا جاچکا ہے کہ اگر پاکستان گرے لسٹ سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے وفد کے آئندہ دورے سے قبل بھرپور اور موثر اقدامات کرنے ہوں گے،

بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائیگا۔رپورٹ کے مطابق وفد نے انسدادِ منی لانڈرنگ کی کوششوں، غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی اور دہشت گردوں کے مالی تعاون کو روکنے کے طریقہ کار میں برتی جانے والی کوتاہیوں پر روشنی ڈالی، وفد کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات انتہائی غیر تسلی بخش ہیں۔وفد کے مطابق جن معاملات میں قانون مضبوط ہے اس میں بھی عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

خیال رہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے جون میں کیے گئے سمجھوتے کے تحت پاکستان کو آئندہ برس ستمبر تک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے ‘ایف اے ٹی ایف’ کے 10 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے۔اس سلسلے میں حکومت کو دہشت گرد تنظیموں اور مشتبہ دہشت گردوں کے مالی اثاثوں، خاندانی پس منظر اور دیگر معلومات مرتب کر کے اسے جنوری تک تمام اداروں کو فراہم کرنا ہے، اگر پاکستان ان اقدامات پر مکمل طور پر عمل کرنے میں ناکام رہا تو اس کا اندراج بلیک لسٹ میں کردیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…