ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے شہد، زیتون، مچھلی سمیت کون کون سی اشیاء مہنگی کردیں جان کر پاکستانیوں کے ہوش اڑ جائیں گے

datetime 17  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت کی جانب سے درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 5سے 45فیصد تک اضافے کے بعد شہد، زیتون، مچھلی سمیت متعدد اشیا مہنگی ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے مختلف درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھادی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بعض اشیاء پر پہلی بار ڈیوٹی کا نفاذ کیاہے جب کہ مختلف مصنوعات

پر ڈیوٹی میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ذرائع کے مطابق شہد پر ڈیوٹی20 سے بڑھا کر 30 فیصد، پنیر پر 35 سے بڑھ کر 50 فیصد، مشروم، زیتون اور مختلف سبزیوں پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔اس کے علاوہ مچھلی سمیت مختلف امپورٹڈ سمندری خوراک پر بھی 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جب کہ امپورٹڈ کاغذ پر 5 فیصد، اسپورٹس سامان اور جوتوں پر ڈیوٹی میں 5، الیکٹرک ساونڈ ایمپلیفائرز پر بھی 5 فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق امپورٹڈ فرنیچر پر ڈیوٹی 10 سے بڑھا کر 45 فیصد، فانوس سمیت مختلف الیکٹرک لائٹس اور سجاوٹ پر ڈیوٹی 10، امپورٹڈ تعمیراتی پتھر پر، پلاسٹک مصنوعات اور بوتلوں پر ڈیوٹی میں 5 فیصد، ٹوائلٹ پیپر پر 5 بھی فیصد جب کہ جوسز پر ڈیوٹی میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔اسپورٹس فور بائے فور گاڑی پر ڈیوٹی میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جب کہ مختلف گاڑیوں کے پرزوں کی امپورٹ پر ڈیوٹی 10 فیصد، بانس سے بنے فرنیچر پر ڈیوٹی میں 10 فیصد اور پھولوں کی درآمد پر بھی 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔انوس سمیت مختلف الیکٹرک لائٹس اور سجاوٹ پر ڈیوٹی 10، امپورٹڈ تعمیراتی پتھر پر، پلاسٹک مصنوعات اور بوتلوں پر ڈیوٹی میں 5 فیصد، ٹوائلٹ پیپر پر 5 بھی فیصد جب کہ جوسز پر ڈیوٹی میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔اسپورٹس فور بائے فور گاڑی پر ڈیوٹی میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جب کہ مختلف گاڑیوں کے پرزوں کی امپورٹ پر ڈیوٹی 10 فیصد، بانس سے بنے فرنیچر پر ڈیوٹی میں 10 فیصد اور پھولوں کی درآمد پر بھی 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…