پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاک ایران بارڈر پر ایرانی خفیہ ادارے کے ممبران سمیت 14اہلکار غائب ہوگئے، سنسنی خیز انکشافات،پاکستان نے بڑا اعلان کردیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد ( آن لائن )پاکستان اور ایران نے ملکر مغوی14 سکیورٹی گارڈز کی تلاش کیلئے مشترکہ کوششیں شروع کردیں ۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان ایرانی سکیورٹی گارڈز کی تلاش میں ہرممکن ایران کی مدد کرے گا،ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک ، ایران بارڈر پر لاپتہ ہونے والے ایرانی گارڈز کو دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکر کام کررہے ہیں۔ قبل ازیں ایران سمیت بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ منگل کی شام کوئٹہ کے قریب پاک ، ایران سرحد پر 14 سکیورٹی گارڈز کو

اغواکرلیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے امریکی اخبار نے دعو یٰ کیا ہے کہ دوسکیورٹی گارڈز خفیہ ادارے کے ممبران تھے جبکہ سات ممبران باسیج فورس کے رضاکار تھے اور دوبارڈر سکیورٹی گارڈڈیوٹی پر موجود تھے۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ پاک ، ایران سرحد پر یہ راستہ منشیات سمگلنگ کرنے یا بلوچ علیحدگی پسند تحریک کے افراد استعمال کیا جاتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ بلو چستان سے ملحقہ ایرانی سرحد پرسرشام اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اغواء کیا گیا ۔جب ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ القاعدہ کے گروپ جیش العدل نے انہیں اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اپنے صوتی پیغام میں خود کوجیش العدل کا ترجمان بتانے والے ابراہیم عزیزی نامی شخص نے کہا کہ ان کی تنظیم نے سرحدی چوکی پرحملہ کرکے 10 اہلکاروں کو یرغمال بنالیا ہے جب کہ وہاں سے ملنے والے اسلحے اوردیگر سامان کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی واقعے کی تصدیق کردی ہے۔ ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ 14 ایرانی سرحدی محافظوں کو منگل کے روزمقامی وقت کے مطابق علی الصبح چار سے پانچ بجے کے درمیان صوبہ سیستان و بلوچستان کے سرحدی علاقے میرجاوہ سے اغوا کیا گیا۔ایرانی پاسداران انقلاب فورس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر موجود بعض علاقائی ممالک کے حمایت یافتہ شرپسند اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…