ہفتہ‬‮ ، 11 جولائی‬‮ 2026 

عراق ، دولت اسلامیہ کا رمادی کی اہم سرکاری عمارت پر قبضہ، 50 سکیورٹی اہلکار ےرغمال

datetime 16  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے رمادی پر جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمادی کو دولت اسلامیہ کے جنگجوﺅں کے ہاتھوں میں جانے نہیں دیا جائے گا جبکہ دولت اسلامےہ کے جنگجوﺅں نے دارلحکومت رمادی کی اہم سرکاری عمارت پر قبضہ کرکے ۔ 50 سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا لےا ہے ادھر امریکہ نے عراقی افواج کو بھاری اسلحے اور مزید جنگی سازوسامان دینے کا وعدہ کیا ہے۔مےڈےا رپورٹس کے مطابق عراق کے سب سے بڑے صوبے انبار کے دارالحکومت رمادی کی اہم عمارتیں دولت اسلامیہ کے جنگجوﺅں کے قبضے میں ہیں۔ عراق میں حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوﺅںنے دارالحکومت رمادی کی اہم سرکاری عمارت پر قبضہ کر کرکے کم از کم 50 سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا لےا ہے ۔دوسری جانب وائٹ ہاو¿س کے مطا بق ا کہ امریکی نائب صدر جو بائڈن نے عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی سے گفتگو کی اور انھیں بھاری اسلحے دینے کا وعدہ کیا ہے ۔دولت اسلامیہ نے رات میں اس کمپاو¿نڈ میں خودکش کار بموں سے حملہ کیا جس میں کم از کم 10 پولیس اہل کار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ صوبہ انبار مےںاسلامیہ اور عراقی فوجوں کے درمیان کئی ماہ سے شدید لڑائی جاری رہی تھی۔صوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام سے اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں ۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے بتایا ہے ’دولتِ اسلامیہ نے رمادی کے وسط میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور صوبے میں پولیس کے ہیڈ کوارٹر پر اپنی تنظیم کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔‘دولتِ اسلامیہ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں سرکاری احاطے پر قبضہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ ماہ عراق کی سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی شیعہ ملیشیا نے سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرایا تھا جس پر دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ سال جون میں قبضہ کر لیا تھا۔جوبائیڈن نے عراقی فوج کو مزید اسلحے اور گولے بارود دینے کا وعدہ کیا ہے اس کامیابی کے بعد عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے صوبہ انبار کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’ہماری اگلی جنگ انبار کی سرزمین پر ہو گی اور اسے مکمل طور پر آزاد کرایا جائے گا۔‘صوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام سے اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں۔اس صوبے کے اکثر شہروں اور دیہاتوں پر دولتِ اسلامیہ یا دیگر شدت پسندوں گروہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔عراقی حکومت کے لیے ایک وسیع صوبے کو دولتِ اسلامیہ سے نکالنا ایک بڑا چلینج ہو گا تاہم حکومت تکریت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی کے تسلسل کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وراثت


بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…