پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

حامد میر کا نام ان کی والدہ نے کیوں تبدیل کر دیا تھا ، ان کا نام پہلے کیا تھا؟ حامد میر کرکٹر بننا چاہتے تھے مگر شہباز شریف جنرل ضیا کے کہنے پر کیسے انکی راہ میں رکاوٹ بنے رہے؟صحافی مظہر برلاس کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 16  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی مظہر برلاس اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ آج کل ’’ڈونکی کنگ‘‘ کا بڑا چرچا ہے۔ کئی لوگ یہ فلم دیکھ چکے ہیں، کچھ دیکھنا چاہتے ہیں، دیکھ کر آنے والے دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں۔ معروف صحافی حامد میر کہتے ہیں کہ ’’میری والدہ مجھے کھوتا کہتی تھیں، آج وہ ہوتیں تو بہت خوش ہوتیں‘‘ حامد میر کی والدہ

بڑی نیک سیرت خاتون تھیں، انہوں نے ساری زندگی درویشی کی چادر اوڑھے رکھی، انہوں نے ایک صوفی بزرگ کے کہنے پر حامد میر کا نام تبدیل کیا ورنہ پہلے تو یہ نام حارث میر تھا۔ شاید صوفی بزرگ نے یہ نام اس لئے تبدیل کیا ہو کیونکہ خیبر کی سرداری رکھنے والے یہودی مرحب کے بھائیوں کے نام حارث اور انتر تھے۔ حامد میر کرکٹر بننا چاہتا تھا مگر میاں شہباز شریف ایک فوجی آمر کے کہنے پر راستے کی رکاوٹ بنے رہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شہباز شریف کیسے رکاوٹ بنے ہوں گے تو اسے واضح کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ایک زمانے میں شہباز شریف لاہور کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔یہ باتیں آج مجھے اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ آج کل میاں شہباز شریف آشیانہ ہائوسنگ اسکیم میں بدعنوانی کرنے کے الزام میں نیب کی حراست میں ہیں۔ شہباز شریف زندگی میں صرف ایک کرکٹر کے لئے رکاوٹ نہیں بنے بلکہ کئی لوگوں کے لئے رکاوٹ بنے۔ جس مقدمے میں وہ زیر حراست ہیں اس میں بھی وہ ایک کمپنی کے لئے رکاوٹ بنے تھے۔ اس کمپنی کا نام لطیف اینڈ سنز ہے۔ شہباز شریف میرٹ پر تو اس کمپنی کو نظرانداز نہیں کر سکتے تھے لہٰذا انہوں نے لطیف اینڈ سنز کی رکاوٹ بننے کے لئے ایک اور منفرد راستے کا انتخاب کیا، باہمی معاہدوں کے اس راستے کے تحت انہوں نے لطیف اینڈ سنز کو آشیانہ اسکیم سے الگ کر دیا۔ یہ کمپنی جو 180ارب سے زائد کے

منصوبوں کو مکمل کر چکی ہے، اس کا ٹریک ریکارڈ بھی انتہائی شاندار ہے، یہی شاندار ریکارڈ ہی اسے عدالتوں کی طرف لے گیا، یہیں سے آشیانہ اسکیم میں ہونے والی بدعنوانیوں کا بھانڈہ پھوٹنا شروع ہوا۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے انہوں نے طاقت کے بل بوتے پر لطیف اینڈ سنز کو بدنام کروانے کی پوری کوشش کی۔ ہو سکتا ہے یہ کوششیں اب بھی ہو رہی ہوں

مگر یقین کیجئے کہ اگلے چند دنوں میں آشیانہ اسکیم کے سلسلے میں کچھ اور لوگوں کو گرفتار کر لیا جائے گا، کہیں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس مرتبہ بے رحمانہ احتساب ہو گا، کسی کو معافی نہیں ملے گی۔ لوگو! یاد رکھو طاقت ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہتی، حکومت بھی ہمیشہ آپ کی نہیں رہ سکتی، ہمیشہ کی طاقت، ہمیشہ کی حکومت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…