پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

2018 میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل ٗ ممبران کے نام سامنے آگئے،نوٹیفکیشن جاری 

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)عام انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ۔پیر کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عام انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں 10 ارکان سینیٹ اور20 قومی اسمبلی سے لیے گئے ہیں۔پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کو برابر نمائندگی دی گئی ہے ۔

کمیٹی میں پرویز خٹک وزیر دفاع، شفقت محمود وزیر تعلیم ، شیریں مزاری وزیر برائے انسانی حقوق، فواد احمد وزیر اطلاعات ، چوہدری طارق بشیر چیمہ وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس، سینیٹر محمد اعظم خان سواتی وزیر ہاؤسنگ و ورکس، ملک محمد عامر ڈوگر رکن قومی اسمبلی ، محمد اختر مینگل رکن قومی اسمبلی ، سید امین الحق رکن قومی اسمبلی ، غوث بخش رکن قومی اسمبلی ، سردار ایاز صادق رکن قومی اسمبلی ، رانا تنویر حسین رکن قومی اسمبلی ، احسن اقبال رکن قومی اسمبلی ، مرتضیٰ جاوید عباسی رکن قومی اسمبلی ،رانا ثناء اللہ رکن قومی اسمبلی ، راجہ پرویز اشرف رکن قومی اسمبلی ، سید خورشید شاہ رکن قومی اسمبلی ، سید نوید قمر رکن قومی اسمبلی ، امیر حیدر اعظم خان رکن قومی اسمبلی ، عبد الواسع رکن قومی اسمبلی ، سینیٹر محمد علی خان سیف، سینیٹر نعمان وزیر خٹک، سینیٹر ہدایت اللہ ، سینیٹر محمد جاوید عباسی، سینیٹر محمد اسد علی خان جونیجو، سینیٹر محمد عثمان کاکڑ، سینیٹر عبد الرحیم ملک اور سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری شامل ہیں ۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا جس پر 18 ستمبر کو وزیر خارجہ اور تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…