پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈاکا لانڈھی میں پلاٹ پر چھاپہ،ایسی چیز پکڑی گئی کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا،پلاٹ سے کیا کچھ سپلائی کیاجاتاتھا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے کراچی کے علاقے لانڈھی بھینس کالونی میں خالی پلاٹ پرچھاپہ مارا ہے جہاں زیر کاشت زمین سے پینے کے پانی اور بجلی کے غیر قانونی کنکشن کا انکشاف ہوا ہے ۔چھاپے کے دوران واٹربورڈ اور کے الیکٹرک کا عملہ موقع سے غائب ہوگیا ۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے پانی اور بجلی کے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے لانڈھی بھینس کالونی کے ایک پلاٹ پر چھاپہ مارا جہاں زیر کاشت زمین سے پینے کے پانی اور بجلی کے غیر قانونی کنکشن کا انکشاف ہوا ہے ۔ موقع پر پانی اور بجلی چوری میں ملوث کام کرنے والے فرار ہوگئے ۔چھاپہ کے دوران واٹر بورڈ اور کے الیکٹرک کا عملہ غائب ہوگیا ۔اس موقع پر فیصل واوڈا نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ وفاق کا اختیار نہیں ہے اسکے باوجود ہم کام کرینگے ۔ بحیثیت پاکستانی اور وزیر ہونے کے ناطے میری ذمہ داری ہے کہ میں غلط کام کی نشاندہی کروں ۔اگر کراچی میں پانی نہیں ہے تو پھر ٹینکر کہاں سے پانی لاکر سپلائی کرتے ہیں ۔ایم ڈی واٹر بورڈ اور دیگر ناجائز کنکشن میں ملوث افسران وافراد کے خلاف ایف آئی ار درج کرائی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں گیلن پانی کی چوری اور مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہے ۔ سندھ حکومت اس کالے دھندے میں ملوث ہے۔دریں اثناء صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ آپ کے تمام خدشات دور کیے جائیں گے ۔آئندہ آپ کہیں بھی جائیں گے ہم آپ کے ساتھ ہوں گے ۔ چھاپے کے دوران واٹربورڈ اور کے الیکٹرک کا عملہ موقع سے غائب ہوگیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…