پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی بیرونی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوگئی ٗفوری طورپر اقدامات نہ کئے تو کیا ہوگا؟ورلڈ بینک نے سنگین انتباہ جاری کردیا ، انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 8  اکتوبر‬‮  2018 |

لندن (این این آئی)ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی بیرونی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے بنیادی طور پر زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور قرض کی شرح بڑھنے کے خطرے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ورلڈ بینک کی جانب سے جنوبی ایشیا سے متعلق بجٹ کرنچ کے نام سے رپورٹ شائع کی گئی جس میں کہا گیاکہ مذکورہ فرق کو ختم کرنے کیلئے درست اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ

مستقبل میں معاشی دباؤ کو برداشت کیا جاسکے۔پاکستان کی معاشی صورتحال اس وقت خراب ہے اور مالی پالیسی سخت کرنے سے اخراجات کے ساتھ ترقی میں کمی کا امکان ہے تاہم مالی صورتحال بہتر کرنے اور برآمدات کو بڑھانے کیلئے قلیل مدتی اقدامات کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت کو تنزلی سے باہر نکالا جائے۔ورلڈ بینک کی رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے خسارے کو درست کرنے کیلئے معاشی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں بڑھتی ہوئی شرح سود کی وجہ سے پاکستان کو بہت زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت پڑے گی۔ورلڈ بینک کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) 4.8 فیصد تک رہے گی کیونکہ حکومت کی جانب سے توازن برقرار رکھنے کیلئے مالی پالیسی کو مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔جیسے ہی پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہوگی تو جی ڈی پی 2020 میں 5.2 تک پہنچ جائے گی تاہم اس بہتری کا انحصار میکرواکنامک استحکام، سازگار بیرونی ماحول، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور برآمدات کی بحالی پر ہوگا۔ورلڈ بینک کے مطابق مالی سال 2019 کے دوران

افراطِ زر کی شرح 8 فیصد تک رہے گی جبکہ یہ 2020 میں بھی برقرار رہے گی ٗاس کے ساتھ ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کے لیے ترسیلاتِ زر سے جزوی طور پر مالی معاونت ہوتی رہے گی۔ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق آئندہ 2 برس کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ بڑھنے اور تجارتی خسارہ بڑھنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…