جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

انٹرپول کے سربراہ کی گم شدگی پر چین سے وضاحت طلب

datetime 7  اکتوبر‬‮  2018 |

پیرس(انٹرنیشنل ڈیسک)فرانس نے انٹرپول کے چینی سربراہ مینگ ہونگ وائی کی چین میں گمشدگی کے بعد بیجنگ سے اس حوالے سے وضاحت طلب کرلی،بعض اطلاعات کے مطابق 64 سالہ مینگ کو چین میں پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان سے کس قسم کی پوچھ گچھ ہو رہی ہے، یا یہ کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق

گمشدگی کی تحقیقات میں شامل ایک اہلکار نے بتایا کہ وہ فرانس میں غائب نہیں ہوئے ہیں۔فرانسیسی تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب مینگ کی اہلیہ نے پولیس کو اپنے خاوند کی گمشدگی کے بارے میں بتایا۔پولیس ذرائع کے مطابق ان کا اپنے خاوند سے 29 ستمبر کے بعد سے رابطہ نہیں ہوا۔تاہم بعد میں فرانس کی وزارتِ داخلہ نے کہا کہ آخری رابطے کی اصل تاریخ 25 ستمبر ہے۔ وزارت کے مطابق چینی حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ فرانس انٹرپول کے صدر کی گمشدگی پر حیران ہے اور اسے ان کی اہلیہ کو دی جانے والی دھمکیوں پر تشویش ہے۔مینگ ہونگ وائی کی گمشدگی اسی نوعیت کی ہے جس طرح چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سینئیر ارکان غائب ہوتے رہے ہیں۔ کوئی رکن اچانک غائب ہو جاتا ہے اور کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں ہے۔بعد میں پارٹی ایک مختصر بیان جاری کرتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ وہ اہلکار ‘زیرِ تفتیش’ ہے۔ اس کے بعد اسے ‘نظم و ضبط کی خلاف ورزی’ کی پاداش میں پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے اور آخر میں جیل کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ شی جن پنگ کے 2012 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک دسیوں لاکھ چینی حکام کو کسی نہ کسی قسم کی تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک بیان میں انٹرپول نے کہا کہ وہ اپنے سربراہ کی گمشدگی سے باخبر ہے۔ یہ معاملہ فرانس اور چین کے متعلقہ حکام کے درمیان ہے۔انٹرپول نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے روزمرہ معاملات ادارے کے جنرل سیکریٹری دیکھتے ہیں، نہ کہ صدر۔مینگ کا انصاف فراہم کرنے والے اداروں میں کام کرنے کا 40 سالہ تجربہ ہے۔انٹرپول کسی شخص کی گرفتاری کے لیے ‘ریڈ نوٹس’ جاری کر سکتی ہے، تاہم اس کے پاس کسی ملک میں جا کر افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…