منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تم نے وردی پہنی ہے تو کیا۔۔ ہم سے جنگ مت چھیڑو ورنہ۔۔ مولانا فضل الرحمن محمود اچکزئی سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے فوج اور خفیہ اداروں کو کھلی دھمکیاں، کیا کچھ کہہ گئے؟

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہماری جماعت کو مت چھیڑو، جاسوسی ادارے سازشی ادارے بن چکے، تم نے وردی پہنی ہے تو کیا آسمان سے اتر ے ہو ، جیسے پاکستانی ہم ہیں ویسے ہی تم ہو، ہم سے جنگ نہ چھیڑی جائے، مولانا فضل الرحمن کی فوج کو دھمکیاں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جمعیت علمائےا سلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی جماعت کے ایک عمومی اجلاس

سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں اور شکایت کے طور پر کہتا ہوں ، میں ناراض ہوں، مجھے گلہ ہے، اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے ، یہ تمام تر فساد اور جماعتوں کے اندر غلط فہمیاں پیدا کرنا ، یہ جاسوسی ادارے نہیں رہے بلکہ اب یہ سازشی ادارے بن چکے ہیں۔ اگر وہ ہم سے دوستی چاہتے ہیں تو پھر اپنے روئیے میں تبدیلی لائو، یہ کوئی کارخارنے داروں اور جاگیرداروں کی جماعت نہیں کہ آپ ان کو جکڑ لیں اور پھر بلیک میل کرتے رہیں۔ ہم نہیں چاہتے تھے ایسی جنگ اور ایسی لڑائی ، ہمارے ساتھ جنگ نہ چھیڑی جائے، ہماری جماعت کو مت چھیڑا جائے ۔ تم بھی پاکستانی ہو اور ہم بھی پاکستانی ہیں، تم نے وردی پہن لی ہے تو کیا کوئی آسمانی مخلوق بن گئے ہو، اسی طرح پاکستانی ہو جیسے میں پاکستانی ہوں۔ گورنر ہائوس کو کھول دو، عوام کیلئے کھول دو جیسے اقدامات پر پھر میں نے کہا کہ وہ پھر ساتھ وہ بھی ہے اسے بھی کھولو۔ فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ باقی کا تو سارا وزیراعظم ہائوس استعمال ہو رہا ہے، میٹنگز بھی اس میں ہو رہی ہیں اور کانفرنسز بھی اس میں ہو رہی ہیں، وہ جو دو کمرے ہیں وہ جو چھوٹا سا حصہ اور ایک لائونج استعمال نہیں ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ میں وزیراعظم ہائوس استعمال نہیں کر رہا، کیوں لوگوں سے جھوٹ بولتے ہو، ان دو کمروں کے بجائے آپ چار پانچ کمرو ں کی جگہ پر رہ رہے ہیں۔ اس سے بڑی جگہ پر رہ رہے ہیں، رقبے کے لحاظ سے بھی بڑی ہے اور مکانیت کے لحاظ سے بھی بڑی ہے۔ ہمیں تمہاری عیاشیوں کا کیا پتہ نہیں ، ہمیں تمہاری غلاظتوں کا کیا پتہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…