جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں افغانیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع، بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو ملک بدری کا پروانہ تھما دیاگیا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

کابل(آئی این پی)افغان حکام نے کہا ہے کہ جرمنی نے ایک اور افغان باشندوں کے گروپ کو ملک بدری کے احکامات جاری کر دئیے ہیں، ملک بدر کئے جانے والا گروپ بدھ کو افغانستان پہنچے گا، دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال مین مہاجرین کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق افغان حکام کے مطابق جرمنی افغان مہاجرین کے ایک اور گروپ کو ان کے آبائی ملک افغانستان واپس بھیج رہا ہے۔

افغانستان میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر ناقدین کو ان مہاجرین کی زندگیوں کے حوالے سے خدشات ہیں۔بعض افغان حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جرمن خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ جرمنی بدر کیے جانے والے افغان مہاجرین کا اگلا گروپ بدھ کے روز دارالحکومت کابل پہنچے گا۔باویرین ریفیوجی کونسل کے مطابق ان پناہ گزینوں کو لے کر ایک فلائٹ منگل کے روز میونخ ایئر پورٹ سے کابل کے لیے پرواز کرے گی۔مسترد شدہ پناہ کی درخواستوں کے حامل پناہ گزینوں کو افغانستان واپس بھیجنے کا یہ عمل 2016 دسمبر میں شروع کیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک 366 افغان تارکین وطن کو جرمنی بدر کیا جا چکا ہے۔طالبان کی جانب سے افغانستان بھر میں شدید ہوتے حملوں کے باعث یہ ملک بدریاں متنازعہ بنی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ کی بارہ تاریخ کو سترہ افغان مہاجرین کا ایک گروپ جرمنی سے کابل پہنچا تھا۔جرمنی سے پناہ گزینوں کو واپس بھیجے جانے کے معاملے پر اس عمل کے مخالفین سخت تنقید کرتے ہیں کیونکہ ان کی رائے میں افغانستان جہادی گروپ اسلامک اسٹیٹ اور طالبان کی جانب سے مسلسل کیے جانے والے حملوں کی زد میں ہے اور اس حوالے سے اب بھی ایک خطرناک ملک ہے۔اس تناظر میں گزشتہ کچھ عرصے میں افغان مہاجرین اور مہاجرین کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جرمنی میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ ان مظاہرین کا موقف ہے کہ افغانستان محفوظ علاقہ نہیں ہے لہذا وہاں مہاجرین کو واپس بھیجنا درست فیصلہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…