ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں افغانیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع، بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو ملک بدری کا پروانہ تھما دیاگیا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

کابل(آئی این پی)افغان حکام نے کہا ہے کہ جرمنی نے ایک اور افغان باشندوں کے گروپ کو ملک بدری کے احکامات جاری کر دئیے ہیں، ملک بدر کئے جانے والا گروپ بدھ کو افغانستان پہنچے گا، دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال مین مہاجرین کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق افغان حکام کے مطابق جرمنی افغان مہاجرین کے ایک اور گروپ کو ان کے آبائی ملک افغانستان واپس بھیج رہا ہے۔

افغانستان میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر ناقدین کو ان مہاجرین کی زندگیوں کے حوالے سے خدشات ہیں۔بعض افغان حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جرمن خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ جرمنی بدر کیے جانے والے افغان مہاجرین کا اگلا گروپ بدھ کے روز دارالحکومت کابل پہنچے گا۔باویرین ریفیوجی کونسل کے مطابق ان پناہ گزینوں کو لے کر ایک فلائٹ منگل کے روز میونخ ایئر پورٹ سے کابل کے لیے پرواز کرے گی۔مسترد شدہ پناہ کی درخواستوں کے حامل پناہ گزینوں کو افغانستان واپس بھیجنے کا یہ عمل 2016 دسمبر میں شروع کیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک 366 افغان تارکین وطن کو جرمنی بدر کیا جا چکا ہے۔طالبان کی جانب سے افغانستان بھر میں شدید ہوتے حملوں کے باعث یہ ملک بدریاں متنازعہ بنی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ کی بارہ تاریخ کو سترہ افغان مہاجرین کا ایک گروپ جرمنی سے کابل پہنچا تھا۔جرمنی سے پناہ گزینوں کو واپس بھیجے جانے کے معاملے پر اس عمل کے مخالفین سخت تنقید کرتے ہیں کیونکہ ان کی رائے میں افغانستان جہادی گروپ اسلامک اسٹیٹ اور طالبان کی جانب سے مسلسل کیے جانے والے حملوں کی زد میں ہے اور اس حوالے سے اب بھی ایک خطرناک ملک ہے۔اس تناظر میں گزشتہ کچھ عرصے میں افغان مہاجرین اور مہاجرین کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جرمنی میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ ان مظاہرین کا موقف ہے کہ افغانستان محفوظ علاقہ نہیں ہے لہذا وہاں مہاجرین کو واپس بھیجنا درست فیصلہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…