اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

کتے کی موجودگی میں نماز کی ادائیگی، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے دعوے پر بات بڑھ گئی، بڑا اعتراض اُٹھا دیا گیا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار ابصار عباسی نے اپنے کالم صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ میں لکھا کہ گزشتہ ہفتے خاتون اول محترمہ بشریٰ بی بی کا ایک ٹی وی انٹرویو سنا۔ وزیراعظم عمران خان کی بیگم جو باپردہ دار خاتون ہیں، کو پردہ کا دفاع کرتے دیکھ کر خوشی محسوس ہوئی۔ بشریٰ بی بی نے کہا کہ پردہ اُن کی پہچان ہے اور اس کا اسلام میں عورتوں کے لیے باقاعدہ حکم ہے،

کسی کو اس پر اعتراض کرنے یا اس کا مذاق اُڑانے کا کوئی حق نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی نے اگر اُن پر تنقید کرنا ہے تو اُن کی بات پر کی جائے لیکن ایک ایسے عمل پر جو اللہ کا حکم ہے، پر کوئی مسلمان کیسے اعتراض کر سکتا ہے۔ بشریٰ بی بی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بے پردگی اور مختصر لباس پہننے والی خواتین کو آج کل ماڈرن سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس باپردہ خواتین کو ’’پینڈو‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ اسی انٹرویو کے دوران بشریٰ بی بی نے ایک ایسی بات کی جو قابلِ اعتراض تھی، اس لیے سوچا اس بارے میں بھی بات کر لی جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ بنی گالہ والے گھر میں وہ نماز پڑھ رہی تھیں کہ موٹو (عمران خان کا پالتو کتا) اندر آ گیا جس پر اُنہیں ڈر محسوس ہوا کہ موٹو کہیں اُن کی جائے نماز پر نہ آ جائے، اس پر انہوں نے غصے سے ہاتھ کا اشارہ کر کے اُسے پرے دھکیل دیا۔وہ چپ کر کے صوفہ کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا اور جب انہوں نے جا کے اُسے دیکھا تو اُنہیں کتے کی آنکھیں بھیگی ہوئی محسوس ہوئیں اور انہوں نے اُس کی آنکھوں سے پانی بہتے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اُن کو بہت دکھ ہوا اور اُس دن کے بعد جہاں وہ جاتی ہیں، وہاں موٹو ساتھ ساتھ جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں بشریٰ بی بی کی بات سن کر مجھے تعجب ہوا کہ کتے کو گھر کے اندر رکھنا گوروں کا تو رواج ہے جس کی ہمارے ہاں ایک ماڈرن طبقہ نقل بھی کرتا ہے لیکن ایک اسلامی سوچ رکھنے والی باپردہ خاتون کو اس بات کا علم نہیں کہ

اسلام میں کتے کو شوقیہ طور پر گھر کے اندر رکھنے کی سخت ممانعت ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کتا ایک ناپاک جانور ہے جسے محض شکار یا (مویشیوں کی) رکھوالی کے لیے رکھنے کی گنجائش ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق جس گھر میں تصویر اور کتا ہو، وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ایک اور حدیث کے مفہوم کے مطابق اگر کسی شخص نے کتا پالا، جو کھیتی اور مویشی کی حفاظت کے علاوہ ہو تو روزانہ اس شخص کی نیکیوں سے ایک قیراط کمی کی جاتی ہے۔ (بخاری2322)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…