جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی سے مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے منصوبے میں توسیع

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

برلن(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمنی کی وفاقی حکومت نے پناہ کے متلاشی افراد کی رضاکارانہ طور پر وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے شروع کردہ پروگرام اسٹارٹ ہلفے پلس کی مدت بڑھا کر رواں برس اکتیس دسمبر کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسٹارٹ ہلفے پلس نامی یہ منصوبہ سیاسی پناہ کی تلاش میں جرمنی کا رخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی رضاکارانہ بنیادوں پر

وطن واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا عنوان آپ کا وطن آپ کا مستقبل ابھی رکھا گیا ہے اور رضاکارانہ واپسی کی صورت میں تین ہزار یورو تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔یہ منصوبہ گزشتہ برس شروع کیا گیا تھا اور ششماہی بنیادوں پر اس میں توسیع کی جاتی رہی تھی، تاہم اب اس کی مدت ستمبر کے اختتام میں ختم ہو جانا تھی۔ وفاقی جرمن وزارت خارجہ نے جمعے کے روز اس منصوبے کی مدت میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد جرمنی میں تارکین وطن کے سماجی انضمام کے منصوبوں کی بجائے ان کی اپنے اپنے وطنوں کی جانب واپسی سے متعلق منصوبوں پر توجہ مرکوز کر دی تھی۔ رواں برس مارچ میں اسٹارٹ ہلفے پلس جیسے منصوبوں کے لیے پانچ سو ملین یورو کی اضافی رقم مختص کی گئی تھی۔بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) اور بی اے ایم ایف کے مشترکہ تعاون سے شروع کیے گئے اس منصوبے میں رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے تارکین وطن کو تین ہزار یورو تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ منصوبے کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو وطن واپسی کی صورت میں اپنے آبائی وطن میں ایک برس تک رہائش کے لیے مکان کا کرایہ بھی دیا جاتا ہے۔تاہم یہ امر بھی اہم ہے کہ امدادی رقم کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ تارک وطن کی جرمنی میں کیا حیثیت ہے۔ سب سے زیادہ رقم ایسے افراد کو دی جاتی ہے جن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس کے مقابلے میں ایسے افراد کو، جن کی کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں اور انہیں بہرصورت جرمنی سے واپس بھیج دیا جانا ہے، زیادہ سے زیادہ بارہ سو یور تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…