جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

جرمنی سے مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے منصوبے میں توسیع

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

برلن(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمنی کی وفاقی حکومت نے پناہ کے متلاشی افراد کی رضاکارانہ طور پر وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے شروع کردہ پروگرام اسٹارٹ ہلفے پلس کی مدت بڑھا کر رواں برس اکتیس دسمبر کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسٹارٹ ہلفے پلس نامی یہ منصوبہ سیاسی پناہ کی تلاش میں جرمنی کا رخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی رضاکارانہ بنیادوں پر

وطن واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا عنوان آپ کا وطن آپ کا مستقبل ابھی رکھا گیا ہے اور رضاکارانہ واپسی کی صورت میں تین ہزار یورو تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔یہ منصوبہ گزشتہ برس شروع کیا گیا تھا اور ششماہی بنیادوں پر اس میں توسیع کی جاتی رہی تھی، تاہم اب اس کی مدت ستمبر کے اختتام میں ختم ہو جانا تھی۔ وفاقی جرمن وزارت خارجہ نے جمعے کے روز اس منصوبے کی مدت میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد جرمنی میں تارکین وطن کے سماجی انضمام کے منصوبوں کی بجائے ان کی اپنے اپنے وطنوں کی جانب واپسی سے متعلق منصوبوں پر توجہ مرکوز کر دی تھی۔ رواں برس مارچ میں اسٹارٹ ہلفے پلس جیسے منصوبوں کے لیے پانچ سو ملین یورو کی اضافی رقم مختص کی گئی تھی۔بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) اور بی اے ایم ایف کے مشترکہ تعاون سے شروع کیے گئے اس منصوبے میں رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے تارکین وطن کو تین ہزار یورو تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ منصوبے کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو وطن واپسی کی صورت میں اپنے آبائی وطن میں ایک برس تک رہائش کے لیے مکان کا کرایہ بھی دیا جاتا ہے۔تاہم یہ امر بھی اہم ہے کہ امدادی رقم کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ تارک وطن کی جرمنی میں کیا حیثیت ہے۔ سب سے زیادہ رقم ایسے افراد کو دی جاتی ہے جن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس کے مقابلے میں ایسے افراد کو، جن کی کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں اور انہیں بہرصورت جرمنی سے واپس بھیج دیا جانا ہے، زیادہ سے زیادہ بارہ سو یور تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…