ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی کی ترسیل کے قابلِ اعتماد ذرائع کی کمی، پاکستان کو ساڑھے 4 ارب ڈالر کا نقصان

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں لوگوں کے گھروں تک قابلِ اعتماد طریقے سے بجلی نہ پہنچنے کی وجہ سے سالانہ 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے جو ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 1.7 فیصد ہے۔  رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار ورلڈ بینک کے نئے مطالعے میں سامنے آئے ہیں۔ یہ تخمینہ اصل نقصان کی ترجمانی نہیں کرتا کیونکہ اس میں بجلی کی ترسیل میں

قابلِ اعتماد ذرائع کی کمی کی وجہ سے صحت اور تعلیم کے شعبے کا نقصان شامل نہیں ہے۔ ورلڈ بینک کے نئے مطالعے سے حاصل ہونے والے نتیجے سے تجاویز اخذ کی گئی ہیں کہ قابلِ اعتماد ذرائع سے بجلی کی ترسیل کو بڑھایا جائے تو پاکستان کو فائدے حاصل ہوں گے۔ پاکستان یہ اہداف الیکٹرک گرڈ اور اس کے متبادل کو وسعت دینے سے حاصل کر سکتا ہے، اور اس کے لیے پاکستان میں ہوا، شمسی اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ایک دہائی کے دواران اپنے قصبوں اور دیہاتوں کو الیکٹرک گرڈ میں شامل کرکے اس حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سے توانائی کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس میں بجلی کی کم پیداوار سرِ فہرست ہے۔ پاکستان میں حال ہی میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت توانائی کے منصوبے لگائے گئے ہیں جن میں سے کچھ فعال بھی ہوچکے ہیں۔ چند روز قبل وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بجلی کے بلوں کی مکمل وصولی یقینی بنانے اور لائن لاسز میں کمی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ملتوی کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…