جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

میں نے کبھی بھی جنسی حملہ نہیں کیا، امریکی سپریم کورٹ کے نامزد جج کیونو

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)سپریم کورٹ کے لیے صدر ٹرمپ کے نامز د جج بریٹ کیونو نے پوری شدت سے ڈاکٹر بلیسی کرسٹین فورڈ کے اس الزام سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے 1982 میں جب دونوں ٹین ایجر تھے، ہائی اسکول کی ایک پارٹی کے دوران ان پر جنسی حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی کسی پر جنسی حملہ نہیں کیا۔

نہ تو ہائی اسکول میں، نہ ہی کالج میں، میں نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا۔سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی میں کیونو کے بیان سے قبل ڈاکٹر فورڈ نے کہا تھا کہ انہیں سو فی صد یقین ہے کہ کیونو اور ان کے ایک دوست مارک جج نے انہیں ایک بیڈ روم میں بند کر دیا تھا اور کیونو نے ان پر دست درازی کی اور جب انہوں نے مدد کے لیے چلانے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔کیونو نے سینیٹرز کو بتایا کہ انہوں نے ایسی کسی پارٹی میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے ڈیموکریٹس پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ان پر سوچا سمجھا حملہ اور ان کی کردار کشی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس سے خوف زدہ ہو کر اپنی نامزدگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔کیونو نے کہا کہ سپریم کورٹ کے لیے توثیق کا عمل ایک سرکس اور قومی سطح پر بے توقیری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔جوڈیشری کمیٹی میں گواہی کے دوران 1982 کے موسم گرما میں اپنی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کئی بار نامزد جج کی آنکھیں چھلک پڑیں اور کئی بار انہیں اپنا بیان روکنا پڑا ۔انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ ان کی بیٹی نے کہا ہے کہ وہ الزام لگانے والی خاتون فورڈ کے لیے دعا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں ان خواتین کا بھی ذکر کیا جو طویل عرصے سے ان کی دوست چلی آ رہی ہیں اور جو ان کی حمایت کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…