بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

نئے پاکستان میں قانون سب کیلئے برابر۔۔ عام افراد کا تو چالان مگر ہیلمٹ نہ پہننے والے پولیس اہلکار وں کےساتھ کیا کام کیا جائیگا؟سخت ترین حکم جاری کر دیا گیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلمٹ بیچنے اور بنانے والے ہیلمٹ کی قیمتیں کم کریں، اگلے ہفتے سے جیل روڈ پر بھی بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کا داخلہ بند کیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔

سی ٹی او لاہور کیپٹن (ر) لیاقت علی کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق دو روز میں ہیلمٹ استعمال نہ کرنے پر 22 ہزار سے زائد موٹرسائیکل سواروں کے چالان کئے گئے۔مزید بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر مال روڈ پر بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں کا داخلہ بند کیا گیا ہے، 2 دنوں میں مال روڈ پر 4778 بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں کو بھاری جرمانے کئے گئے جبکہ مجموعی طور پر لاہور میں 22246 بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کو چالان ٹکٹ جاری کئے گئے۔سی ٹی او کی جانب سے کہا گیا کہ عدالتی احکامات پر من و عن عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلانے پر پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے، اگر کوئی پولیس اہلکار بغیر ہیلمٹ مال روڈ پر دکھائی دیا تو وہ اپنی نوکری بھول جائے، وکلا ء اور صحافیوں سمیت تمام شہری اپنی حفاظت کیلئے ہیلمٹ پہنیں، ہیلمٹ بیچنے اور بنانے والے ہیلمٹ کی قیمتیں کم کریں۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ مال روڈ، جیل روڈ، کینال روڈ، فیروزپور روڈ سمیت اہم شاہراہوں پر بھی کارروائی جاری رکھی جائے، اگلے ہفتے سے جیل روڈ پر بھی بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں کا داخلہ بند کیا جائے۔عدالت نے پیمرا کے نمائندے کو روڈ سیفٹی پر اشتہار چلانے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں کو تیل نہیں دیا جاتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…