بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں سرکاری گاڑیوں کی چوری کا راز کھل گیا،گرفتار ملزم عطا مینگل کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آگئی،سنسنی خیز انکشافات

datetime 24  ستمبر‬‮  2018 |

کوئٹہ +کراچی (این این آئی) اینٹی کار لفٹنگ سیل (اے سی ایل سی) پولیس کے ہاتھوں گرفتارملزم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں سچل کے علاقے سے چھینی گئی سرکاری گاڑی ڈرائیور نے خود چھنوائی تھی۔گزشتہ دنوں اینٹی کارلفٹنگ سیل پولیس کے ہاتھوں گرفتار ملزم عطا مینگل کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔

ملزم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں سچل کیعلاقے سے چھینی گئی سرکاری گاڑی ڈرائیور انور بروہی نے خود چھنوائی تھی۔کراچی میں ایک اور سرکاری گاڑی چھین لی گئی سرکاری گاڑیوں میں ٹریکر نصب نہیں ہوتا اس لیے چھینی یا چوری کی جاتی ہیں اور انہیں بلوچستان میں فروخت کردیا جاتا ہے، ساتھ ہی ملزم نے متعدد گاڑیاں چھیننے اور چوری کرنے کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔گرفتارملزم نے تفتیش کے دوران بتایا کہ انور بروہی اس کا رشتہ دار ہے اور ایک سرکاری محکمہ میں بطور ڈرائیور ملازمت کرتا ہے۔ملزم کا کہنا تھا کہ انور بروہی اوراس نے منصوبہ بنایا کہ سرکاری گاڑی کو خضدارمیں فروخت کیا جائے گا جبکہ کراچی میں گاڑی چھینے جانے کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 2012 سے لے کر 2014 کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں سے سرکاری گاڑیاں چھین کر یا چوری کرکے بلوچستان لے جا کر مخرالدین مندرانی اور اس کے بھائی قطیب الدین مندرانی کو فروخت کیں۔اے سی ایل سی پولیس کے مطابق گرفتار ملزم عطا مینگل کے 2 ساتھی سرکاری ڈرائیور انور بروہی اور نصیر زہری پہلے سے گرفتار ہیں۔ اینٹی کار لفٹنگ سیل (اے سی ایل سی) پولیس کے ہاتھوں گرفتارملزم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں سچل کے علاقے سے چھینی گئی سرکاری گاڑی ڈرائیور نے خود چھنوائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…