بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اہم سرکاری ادارے کے حکام کی 3سالوں میں 52ارب کی خریداری، کمپنیوں کو 22ارب دیدئیے،نوازشات نواز شریف حکومت میں ہوئیں، افسوسناک انکشافات

datetime 23  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن )او جی ڈی سی انتظامیہ نے مشترکہ منصوبوں میں شامل نجی آئل کمپنیوں کو 22ارب 41کروڑ روپے فراہم کررکھے ہیں بھاری رقوم متعلقہ کمپنیوں سے ریکوری بھی نہیں کیے جاسکتے ۔ دستاویزات مں انکشاف ہوا ہے کہ

اوجی ڈی سی ایل نے مشترکہ منصوبوں میں شامل کمپنیوں کو نواز شریف حکومت کے پہلے سال 6 ارب 41کروڑ روپے دئیے تھے جبکہ نواز شریف حکومت کے دوسرے سال 7ارب91کروڑ روپے جبکہ تیسرے سال 8ارب 4کروڑ فراہم کیے تھے اس طرح گزشتہ تین سالوں میں جبکہ نواز شریف کے آخری سال میں 2ارب 47کروڑکئے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل نے کمپنیوں کو نواز شریف حکومت میں ایڈوانس کے طور پر دی گئی رقوم فراہمی میں 237فیصد اضافہ کر رکھا ہے ۔ جس کا کوئی جوازنہیں ہے۔ دوسری طرف او جی ڈی سی سیل نے مختلف کمرشل بینکوں سے اربوں روپے کے قرضے بھی حاصل کررکھے ہیں اور ان قرضوں پر ہر سال اوسطً10ارب روپے سود کی مد میں ادا کئے جارہے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل ایک طرف بنکوں کو سود کی مد میں ہر سال اربوں روپے ادا کررہا ہے جبکہ دوسری طر ف کمپنیوں کو ایڈوانس کے نام پر ہر سال 22ارب روپے ادا کررہا ہے۔ متعلقہ اداروں کو او جی ڈی سی اے میں مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس لے کر سخت کاروائی کرنی چاہیے۔ اور اس مالی سکینڈل میں ملوث افسران کے خلاف تادیبی کاروائی کرنی چاہیے۔ دستاویزات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ او جی ڈی سی ایل میں نئے کنوے کھودنے اور ڈرل کرنے کا رجحان کم ہوا ہے جبکہ سٹورز کی خریداری میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ تین سالوں میں محکمہ سٹور میں 52ارب روپے کی خریداری کی گئی ہے جس کی اعلٰی پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…