ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

یمنی بچّے کی تصویر نے انسانی حقوق کونسل میں حوثیوں کو رْسوا کر دیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2018 |

صنعاء(انٹرنیشنل ڈیسک)یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کی رْسوا کْن کارستانیوں سے بھرے ریکارڈ میں ایک اور شرم ناک واقعے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ حوثی ملیشیا یمنیوں کو موت کی نیند سْلا کر اور ان کے گھروں کو تباہ کرنے کے بعد تباہی اور خون کے مناظر کے ذریعے ان کے دکھوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ اس کا مقصد رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور بین الاقوامی ہمدردی سمیٹنے کے لیے حقائق میں

جعل سازی کر کے پیش کرنا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق تازہ ترین واقعے میں حوثیوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک یمنی بچّے کی تصویر پیش کی جو اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھا رو رہا ہے۔ ایران نواز حوثی ملیشیا نے 2014ء میں اس گھر کو دھماکے سے اڑا دیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ یہ عرب اتحادی طیاروں کا نشانہ بنا ہے۔تاہم جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں صحافی اور کارکن ہمدان العلیی نے حوثی ملیشیا کی جعل سازی اور جھوٹ کو بے نقاب کر دیا جس کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا تھا۔ہمدان نے اپنی بریفنگ میں تصویر میں نظر آنے والے بچّے اور واقعے کے مقام دونوں کا نام بتایا اور یہ انکشاف بھی کیا کہ مذکورہ بچّہ حوثی ملیشیا کے جور و ستم کا نشانہ بنا۔ہمدان کے مطابق بچّے کا نام فراس الزبیری ہے اور اس کا تعلق ارحب ضلعے سے ہے۔ حوثی ملیشیا نے اْس کے گھر کو دھماکے سے اڑا کر میڈیا کیمرہ میں نبیل الازوری کے ذریعے اس کی تصاویر بنوائیں۔ شومئی قسمت کہ اسی پہلو نے حوثی ملیشیا کو انسانی حقوق کونسل کے سامنے رسوائی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسف نے یمنی کیمرہ مین نبیل الازوری کو ایوارڈ سے نوازا تھا جس نے اس بچّے فراس الزبیری کی تصویر بنائی تھی۔ بعد ازاں یونیسف نے اپنے پیجز اور اکاؤنٹس پر یہ تصویر استعمال کی۔ تاہم اس کے باوجود حوثی ملیشیا حسب عادت رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور یمنیوں کے قتل اور ان کے گھروں کو تباہ کرنے جیسے جرائم کا ارتکاب کرتی رہی۔ اس کے بعد حوثی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کا دروازہ کھٹکھٹا کر خون، گھروں کے ملبے اور بچوں کے دکھوں پر سوداگری کرتے رہے۔ایرانی میڈیا نے بھی یمنی بچّے فراس کی تصویر استعمال کی اور اسے اس بنیاد پر پیش کیا کہ عرب اتحادی طیاروں نے ایک خاندان کے گھر پر بم باری کی ہے۔ اس کے نتیجے میں فرّاس کے سوا تمام گھر والے موت کی نیند سو گئے۔ علاوہ ازیں ایرانی میڈیا ویب سائٹوں نے باغی ملیشیا کے لیے عطیات اکٹھا کرنے کے واسطے اس تصویر کو پروپیگندا مہموں کے فروغ میں بھی استعمال کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…