بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سیاسی مداخلت پر امیر مقام کو ٹھیکہ دیا گیا، دیکھنا ہو گا کہ ایک ارب کا منصوبہ 25ارب کا کیسے ہو گیا؟حیرت انگیز انکشافات، بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 19  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) وزیرمملکت برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ مواصلات کے 34منصوبوں میں تاخیر ہوئی،کنٹریکٹس میں چند کمپنیز کو بار بار نوازا گیا،سیاسی مداخلت پر امیر مقام کو ٹھیکہ دیا گیا، دیکھنا ہو گا کہ ایک ارب کا منصوبہ 25ارب کا کیسے ہو گیا،غلط بڈنگ اور غلط کنٹریکٹ کے خاتمے کیلئے ای سسٹم لائیں گے،

جس کیلئے وفاقی کابینہ سے اجازت لیں گے، موٹروے کے جتنے بڑے منصوبے ہیں ان کو جاری رکھیں گے ان کیلئے ٹوکن منی رکھی گئی ہے۔وہ بدھ کو یہاں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے۔وزیرمملکت برائے مواصلات مراد سعید نے کہا کہ مواصلات کے 34منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے، تاخیر سے ان منصوبوں کی لاگت میں 3گنا اضافہ ہو گیا ہے، مواصلات کے منصوبوں کے کنٹریکٹس میں چند کمپنیوں کو بار بار نوازا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت مواصلات میں ای بڈنگ اور ای ٹینڈرنگ کے نظام متعارف کرائیں گے، چیئرمین این ایچ اے کے پاس بہت ساری گاڑیاں ہیں جن کی تفصیلات مانگ لی ہیں، منصوبوں میں تاخیر کیوں ہوئی اس پر آڈٹ کرایا جائے گا، چکدرہ کالام روڈ نہ بننے کی بڑی وجہ سیاسی اثرورسوخ ہے۔ مراد سعید نے کہاکہ سیاسی مداخلت پر امیر مقام کو یہ ٹھیکہ دیا گیا، اب دیکھنا ہو گا کہ ایک منصوبہ ایک ارب کا تھا تو 25ارب کیسے ہو گیا،غلط بڈنگ اور غلط کنٹریکٹ کے خاتمے کیلئے ای سسٹم لائیں گے، ای سسٹم نافذ کرانے کیلئے وفاقی کابینہ سے اجازت لیں گے، تاخیر ہونے والے منصوبوں کی لاگت میں 40سے 50فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزیرمملکت برائے مواصلات نے کہا کہ موٹروے کے جتنے بڑے منصوبے ہیں ان کو جاری رکھیں گے، گزشتہ حکومت کے دور میں بہت سارے منصوبوں کیلئے ٹوکن منی رکھی گئی ہے۔  وزیرمملکت برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ مواصلات کے 34منصوبوں میں تاخیر ہوئی،کنٹریکٹس میں چند کمپنیز کو بار بار نوازا گیا،سیاسی مداخلت پر امیر مقام کو ٹھیکہ دیا گیا، دیکھنا ہو گا کہ ایک ارب کا منصوبہ 25ارب کا کیسے ہو گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…