پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

پانامہ کیس میں سخت تنقید کرنیوالے حامد میر جب نواز شریف کے بائی پاس کے بعد لندن انکی عیادت کیلئے گئے تو بیگم کلثوم نواز نے ان کیساتھ کیاسلوک کیا؟ وہ وقت جب کلثوم نواز کے کہنے پر نواز شریف کو حامد میر سے معافی مانگنا پڑ گئی

datetime 17  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وہ وقت جب نواز شریف کو بیگم کلثوم نوازکے کہنے پر معروف صحافی حامد میر سے معافی مانگنا پڑ گئی۔ تفصیلات کے مطابق معروف صحافی، تجزیہ کار حامد میرنے اپنے کالم میںبیگم کلثوم نواز کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ ہر مشکل وقت میں کبھی ا علانیہ کبھی غیر اعلانیہ انہوں نے مجھے حوصلہ دیا اور میری حمایت بھی کی۔ 1998میں سینیٹر سیف الرحمان

نے میری آواز دبانے کی کوشش کی تو کلثوم نواز صاحبہ نے مجھے بتائے بغیر وزیر اعظم نواز شریف سے کہا کہ وہ مجھ سے معذرت کریں اور پھر وزیر اعظم صاحب نے مجھ سے معذرت کی۔ 2014میں کراچی میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو انہوں نے میری اہلیہ کو فون کرکے حوصلہ دیا اور بہت دعائیں دیں۔ پانامہ اسیکنڈل کے بعد اس ناچیز نے نواز شریف حکومت پر کافی تنقید کی لیکن جب نواز شریف کا لندن میں بائی پاس ہوا اور میں ان کی عیادت کے لئے لندن گیا تو وہاں بیگم کلثوم نواز صاحبہ سے آخری ملاقات ہوئی۔ وہ نواز شریف کو سنبھال رہی تھیں کچھ عرصہ بعد اسی ہاسپیٹل میں نواز شریف ان کو سنبھال رہے تھے۔ میں نواز شریف کی عیادت کے بعد اس ہاسپیٹل سے روانہ ہوا تو بیگم صاحبہ نے مسکراتے چہرے کے ساتھ بار بار میرا شکریہ ادا کیا۔ بہت سی دعائیں دیں اور خدا حافظ کہا۔ ہفتہ کی شام نواز شریف اور شہباز شریف سے رخصت لے کر میں بیگم کلثوم نواز کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے گیا تو ان کا مسکراتا چہرہ میری نظروں کے سامنے گھوم گیا اور ان کی محبت بھری باوقار آواز کانوں میں گونجنے لگی۔حامد میر مزید لکھتے ہیں کہ بیگم کلثوم نواز کے جنازے سے اگلے روز مجھے جاتی امرامیں نواز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ا ور فاتحہ خوانی کا موقع ملا۔ اس رہائش گاہ میں پہلے بھی ان کے ساتھ کئی مرتبہ ملاقات ہوچکی ہے لیکن پہلے یہاں

قہقہے، مسکراہٹیں اور رنگ و خوشبو تھی آج ماحول سوگوار تھا۔ ڈرائنگ روم میں نواز شریف کیساتھ خواجہ محمد آصف، پرویز رشید، عرفان صدیقی اور کچھ قریبی رشتہ دار موجود تھے۔ نواز شریف کی آنکھوں میں غم اور اداسی کے سائے نظر آرہے تھے لیکن انکے چہرے پر حوصلہ اور لہجہ پرعزم تھا۔حامد میر کا اپنے کالم میں کہنا تھا کہ نواز شریف نے جو کھونا تھا کھودیا۔ مزید کھونے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں۔ حکومت نے نواز شریف کو پیرول پر رہا کرکے بہت اچھا کیا لیکن نواز شریف کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ بائو جی بڑے حوصلے میں ہیں۔ کسی ڈیل کے لئے تیار نہیں اور بائو جی کا چھوٹا بھائی ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…