اسلام آباد (نیوزڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے حوالے سے کیس میں وفاق اور چاروں صوبوں سے عملدرآمد کیلئے 20 مئی تک ٹائم فریم طلب کر تے ہوئے صوبائی لاءافسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہو نے کا حکم دیا ہے جبکہ جسٹس جوادایس خواجہ نے کہا ہے کہ آئین نے ایک مقررہ مہلت دی تھی، اب قوم 42سال کا حساب تو مانگے گی، انگریزی سکول کا پڑھا ہونے کے باوجود عدالتی فیصلے اردوزبان میں لکھانا شروع کردیئے ہےں ۔کیس 2003ء عدالت میں چل رہاہے ¾ متعدد سماعتوں میں عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات دی ہیں۔ متعلقہ حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔نیت صاف ہو تو کام ہو جاتے ہیں۔ ،آرٹیکل 251پر عمل درآمد ہونا چاہئے، چاروں صوبے اردو زبان کی ترویج میں اپنا کردار ادا کریں۔بدھ کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پر اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عبدالرشید اعوان ،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ، وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات محمد اعظم اور درخواست گزار کوکب اقبال خواجہ عدالت میں پیش ہوئے اٹارنی جنرل اوروفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے عدالت کو بتاےا کہ اردوکوسرکاری زبان کادرجہ دینے کے سلسلے میں ان کی آج ہی متعلقہ حکام کے ساتھ میٹنگ طے ہے جس کے بعد ہی عدالت کو کوئی ٹائم فریم دےا جاسکے گا۔ انہوںنے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر 2006ئ میں اس حوالے سے ایک کابینہ کمیٹی بنائی گئی پھر 2010 ئ میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاہم مختلف حکومتوں کی تبدیلی کے باعث یہ کام مکمل نہ ہوسکا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آئین نے ایک مقررہ مہلت دی تھی، اب قوم ان 42سال کا حساب تو مانگے گی، انگریزی سکول کا پڑھا ہونے کے باوجود میں نے عدالتی فیصلے اردوزبان میں لکھانا شروع کردیئے ہےں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کوکب اقبال نے کہا کہ اردوکوسرکاری زبان کادرجہ دے کر مقابلے کا امتحان بھی اردو میں لےا جائے،جس پرجسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایک دم سب کچھ نہ کےا جائے بلکہ مرحلہ وار آگے بڑھناچاہیے، یہ اتنا آسان کام نہیں کہ تمام قوانین،کتابوں،ریکارڈ کو اردو میں لکھااور تیارکیا جائے مگر اب جدید ٹیکنالوجی آگئی ہے جس سے یہ کام جلد اورآسانی کے ساتھ انجام دیاجاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک بار انگریز سرکار نے لاہور میں انگریزی زبان رائج کی تواردواورپنجابی بولنے والے مقامی لوگوں کی اکثریت یعنی 97فیصد افراد جاہل رہ گئے تھے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ کیس 2003ئ سے عدالت میں چل رہاہے اورسپریم کورٹ نے متعدد سماعتوں میں عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات دی ہیں مگر متعلقہ حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ انہوںنے کہاکہ اگرنیت صاف ہوتو تمام کام ہوجاتے ہیں،آرٹیکل 251پر عمل درآمد ہونا چاہئے، چاروں صوبے اردو زبان کی ترویج میں اپنا کردار ادا کریں، ٹھوس وجوہات کے بغیر عدالت اس معاملے پر مزید مہلت نہیں دے گی۔ اس موقع پر سینئروکیل اے کے ڈوگر نے مقدمہ میں عدالتی معاون بننے کی درخواست کی جسے منظور کرلےاگےا۔ بعدازاں مزید سماعت 20مئی تک ملتوی کردی گئی۔
اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے بارے کیس ،سپریم کورٹ نے وفاق اور چاروں صوبوں سے ٹائم فریم طلب کرلیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کردیا گیا
-
طلبہ کےلئے خوشخبری،ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)
-
کراچی؛ فلیٹ سے ڈاکٹر، اسکی بیوی اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد، ابتدائی تفتیش میں اہم انکشاف
-
حکومت کی ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان
-
بھارت کے امیر ترین کھلاڑی ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت کی تفصیلات سامنے آ گئیں
-
عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
-
شہریوں کیلئے بڑی سہولت، پاسپورٹ بنوانا مزید آسان
-
زلزلے کے جھٹکے،شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
-
دنیا بھر میں ایرانی ایئرلائنز کی سروس بند، نہ ٹکٹ نہ لینڈنگ کی اجازت ہوگی
-
اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، متعدد تعلیمی اداروں میں غیراعلانیہ تعطیلات
-
معاذ صداقت نے سی پی ایل فائنل میں ایک اور نئی تاریخ رقم کردی
-
حکومت بجلی کی خرید و فروخت کے عمل سے باہر؛ صارفین اب بجلی خود خرید سکیں گے



















































