جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

اوباما کا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خفیہ خط

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نیویارک۔۔۔ ایک امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خفیہ خط تحریرکیا ہے جس میں ایران سے داعش کے خلاف مہم میں تعاون حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ لکھے گئے اس خفیہ خط میں امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگ میں مشترکہ مفاد کے بارے میں بات کی ہے۔اخبار کے مطابق صدراوباما کیاس خط کا مقصد داعش کے خلاف مہم میں حمایت حاصل کرنا اور جوہری معاہدے کے لیے ایرانی رہنما کو قریب لانا ہے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ متوقع جامع معاہدے کو داعش کے خلاف مدد سے مشروط قرار دیا ہے۔ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی سفارتی ڈیڈ لائن 24 نومبر ہے۔اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اتوار کو ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے اومان میں ملاقات کریں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس خط کے بارے میں سفارتی حساسیت کے پیش نظر وائٹ ہاوس نے اسرائیل،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مشرق وسطی ٰکے اتحادیوں کو بھی آگاہ نہیں کیا۔ ان ممالک نیایران سے جوہری معاہدے کے لیے شرائط میں نرمی پرتحفظات کا اظہارکیا ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاوس کے ترجما ن جوش ارنسٹ نے صدر اوباما اور عالمی سر براہان کے درمیان خفیہ نجی خط و کتابت کی تردید کی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں ایران اور امریکا کے اعلیٰ حکام کے درمیان داعش کے خلاف مہم کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکنز کو اکثریت حاصل ہونے کے بعد اوباما کو ایران سے جوہری معاہدے کی کوششوں میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔بدھ کوصدر اوباما نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایران میں امریکا مخالف جذبات رکھنے والے کچھ سیاسی اشرافیہ ہیں۔ کیا وہ تعاون پر ا?مادہ ہو سکتے ہیں یہ ایک سوال ہے۔2009 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اوباما نے ایران کے سپریم لیڈر کو یہ چوتھاخط تحریر کیا ہے۔ امریکی صدر نے تہران سے تعلقات بحال کرنے کے لیے 2009 میں ا?یت اللہ علی خامنہ ای کو دو خط بھیجے۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق ایرانی رہنما نے کبھی براہ راست ان کوششوں کا جواب نہیں دیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ا?یت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ تعلقات پر شک وشبہات کا اظہار کیا ہے اور داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے مغرب کی جانب سے اسلامی دنیا کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام کا بھی یہی خیال ہے کہ اوباما ایرانی سپریم لیڈر سے روابط پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…