بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

جرمنی : 150بچوں کا والدین کیخلاف انوکھا احتجاج، فون سے نہیں ہم سے کھیلیں

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

برلن(آئی این پی)جرمنی میں بچوں نے والدین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فون پر کھیلنے کی بجائے ہم سے کھیلیں،احتجاجی ریلی میں 150بچوں نے شرکت کی، والدین کی بھرپور توجہ نہ ملنے سے بچے ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے لیے ان پر توجہ دینا انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن اگر انہیں والدین کی جانب سے

بھرپور توجہ نہ ملے تو وہ مایوسی اور ذہنی دبا ؤمیں مبتلا ہوجاتے ہیں، ایسے میں جرمنی کے بچوں نے والدین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موبائل فون استعمال کرنے کے بجائے ان پر توجہ دیں۔جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے رہائشی 7 سالہ ایمل رسٹیگ (Emil Rustige) نے ان تمام والدین کے خلاف احتجاج کیا جو اپنے بچوں کو کم وقت دیتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ہر وقت موبائل فون ہوتا ہے۔ایمل نے اپنے والدین کی مدد سے اپنے علاقے سے ایک احتجاجی ریلی نکالی، جس میں شہر کے 150 بچوں نے شرکت کی اور ان کا ساتھ دیا۔انہوں نے اس احتجاج کے لیے باقاعدہ ایک نعرہ تیار کیا، جس میں مطالبہ تھا، Play with ME, not with your cell phones! یعنی کہ ‘میرے ساتھ کھیلیں، اپنے فون سے نہیں۔اس دوران ایمل نے لاڈ اسپیکر پر بچوں سے خطاب میں کہا کہ ‘وہ امید کرتے ہیں کہ اب ممی پاپا اپنا موبائل فون کم استعمال کریں گے اور ہمارے ساتھ وقت گزاریں گے’۔ایک امریکی تحقیق کے مطابق 13 سے 17 برس تک کے بچوں کا سوشل میڈیا پر کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے والدین موبائل فون ڈیوائسز سے دور ہوجائیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایڈولیسینٹ ڈیولپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر رون ڈہل کا کہنا ہے کہ یہ بچے والدین اور دوستوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے سے پریشان ہیں، یہ لوگ دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ان کو اہمیت و توجہ نہیں دی جارہی جب کہ ممکنہ طور پر وہ خود بھی نہیں پہچان رہے کہ وہ بھی یہی کر رہے ہیں۔تحقیق کے مطابق جن بچوں کو والدین کی جانب سے توجہ نہیں ملتی وہ اپنے آپ کو تنہا اور غیر اہم محسوس کرتے ہیں اور دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…