ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

’’ڈالر جائے بھاڑ میں، ہمیں اس کی ضرورت نہیں،حکومت بس یہ ایک کام کرے‘‘ آئی ایم ایف اور ڈالر کی کمی سے بچنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا گیا،اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن نےایسا شاندار منصوبہ پیش کر دیا کہ حکومت کا بڑا مسئلہ حل ہو گیا

datetime 11  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستانی ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن نے آئی ایم ایف کے چنگل سے چھٹکارے کیلئے حکومت کو چند تجاویز پیش کی ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہیے اور ہمیں آئی ایم ایف کے بغیر جینا سیکھنا ہو گا۔انہوںنے کہا کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہوگا اور کرنٹ اکاونٹ خسارے کو حکمت عملی کے ذریعے کم کرنا ہو گا۔ڈاکٹر اشفاق حسن نے تجویز کیا کہ چین کے مختلف شہروں

میں روڈ شو کر کے یوآن میں رقم اٹھائی جا سکتی ہے جسے چین کے ساتھ تجارت میں استعمال کیا جائے تو ڈالر کی ضرورت کم ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بانڈ فلوٹ کیے جا سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ غیر ضروری چیزوں کی درآمد بند کرنے سے مجموعی طور پر 9 سے 10 ارب ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق یہ ان کی اپنی رائے ہیں، اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس اور اس کا ایجنڈا وزیر خزانہ طے کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…