جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت پر انحصار ختم، نیپال نے چین کے ساتھ ایسا معاہدہ کرلیا کہ بھارت میں کھلبلی مچ گئی

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

کھٹمنڈو(آئی این پی)چین نے نیپال کوسات بندرگاہوں تک رسائی دے دی ہے۔اب نیپال چین کی چار بحری اور تین خشک بندرگاہوں کو کسی بھی تیسرے ملک کے ساتھ تجارت کے لیے استعمال کرسکے گا۔اس کا اعلان یہاں گزشتہ روز نیپال کی وزارت صنعت تجارت اور رسد نے کیا ہے۔

نیپال اپنے 80فیصد سامان کی نقل وحمل کے لیے بھارتی بندرگاہ کولکتہ استعمال کرتا ہے۔اب چینی بندرگاہوں تک رسائی ملنے کے بعد بھارت پر نیپال کا انحصار ختم ہوجائے گا۔ کیونکہ چین اور بھارت بھی دوطرفہ تجارت ان بندرگاہوں کے ذریعے کریں گے۔ اور نیپال بھی دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے انہیں بندرگاہوں کو استعمال کرسکے گا۔مبصرین کے مطابق نیپال اور چین کے درمیان ان بندرگاہوں کے استعمال کا فیصلہ بہت اہم ہے۔جو چار ستمبر سے کھٹمنڈو میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان تین روزہ مذاکرات کے دوران کیا گیا۔یہ پروٹوکول معاہدہ نیپال کو چین کی چار بحری اور تین خشک بندرگاہوں تک رسائی دے دے گا۔جس سے بھارت پر نیپال کا انحصار تقریبا ختم ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ بھارت نے2016میں نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کرلی تھی۔فیصلہ پر آئندہ ماہ سے عمل درآمد شروع کردیا جائے گا۔ ان بندرگاہوں کے ساتھ تجارت کے لیے چین اپنی سرحد پر چھ مقامات بھی نیپال کے لیے کھول دے گا۔تاکہ ان بندرگاہوں تک مال لانے اور لے جانے کے لیے اسے سرحد پر سہولت فراہم کی جاسکے۔ چین نے نیپال کوسات بندرگاہوں تک رسائی دے دی ہے۔اب نیپال چین کی چار بحری اور تین خشک بندرگاہوں کو کسی بھی تیسرے ملک کے ساتھ تجارت کے لیے استعمال کرسکے گا۔اس کا اعلان یہاں گزشتہ روز نیپال کی وزارت صنعت تجارت اور رسد نے کیا ہے۔نیپال اپنے 80فیصد سامان کی نقل وحمل کے لیے بھارتی بندرگاہ کولکتہ استعمال کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…