پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

بھارتی پولیس اہلکاروں میں تشدد اور خودکشی کا رجحان،وجوہات سامنے آگئیں

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

ممبئی(نیوزڈیسک)ممبئی میں حال ہی میں ایک پولیس جوان کی جانب سے اپنے سینئر افسر کو گولی مارنے کے حالیہ واقع کے بعد ممبئی کے پولیس اہلکاروں میں خودکشی اور قتل کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش پائی جاتی ہے۔ممبئی کے پولیس کمشنر راکیش ماریا نے تمام پولیس اہلکاروں اور افسران کی دماغی صحت کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔اگرچہ کام کے دباو¿ کی وجہ سے پولیس جوانوں اور افسروں کی خودکشی کی واردات مہاراشٹر کے مختلف شہروں میں کم ہو چکی ہے، پر کسی جونیئر افسر کا اپنے سینئر کو گولی مارنے کا یہ پہلا معاملہ ہے۔
نیشنل کرائم رییارڈز بیورو کے مطابق، ملک میں پولیس اہلکار اور افسران کی خودکشی کے واقعات میں ریاست مہاراشٹر پہلے مقام پر ہے۔
سال 2013 میں ملک بھر میں کل 222 پولیس اہلکاروں اور افسران نے خود کشی کی تھی اس میں 40 کا تعلق مہاراشٹر پولیس سے تھا۔
ہر پولیس اہلکار اور افسر کی سال میں کم سے کم ایک بار ذہنی جانچ ضرور ہونی چاہئے واولا پولیس تھانے کے سینئر افسر کو گولی مارنے کے واقع کے بعد ممبئی سے ملحقہ تھانے میں تعینات دو حوالدارو نے کھل کر اپنے سینئر افسران کے خلاف میڈیا سے بات کی اور خود کشی کرنے کی دھمکی دے دی۔ان حوالداروں نے تو میڈیا کے سامنے سینئر اہلکاروں کی مبینہ بدعنوانیوں کی فہرست ہی پڑھ ڈالی.گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے پولیس ہسپتال سے منسلک نفسیات کے ڈاکٹر نند آٹارا کا خیال ہے کہ ہر پولیس اہلکار اور افسر کا سال میں کم سے کم ایک بار ذہنی معائنہ ضرور ہونا چاہئے۔ ڈاکٹرآٹارا نے کہا کہ : ’پولیس محکمے میں کئی ملازمین اور افسران ایسے ہیں جو مہینوں تک اپنے خاندان سے دور رہتے ہیں۔ کئی بار گھر کے تہوار کے دوران انہیں ڈیوٹی پر لگایا جاتا ہے ایسے میں قدرتی طور پر ان پر ذہنی دباو¿ بڑھتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کے پولیس محکمے میں ذہنی طور پر بیمار جتنے لوگوں کی تعداد بتائی جاتی ہے، اصل میں یہ تعداد اتنی نہیں ہے‘ڈاکٹر آٹارا کے مطابق خود کشی کی وجوہات کام کا بوجھ ہے۔ ڈاکٹر آٹارا کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس کا سب سے بڑا مسئلہ انسانی وسائل کی کمی ہے۔ملازمین اور افسران کی انتہائی کمی کے نتیجے میں، ملازمین اور افسران ہر وقت دباو¿ میں رہتے ہیں اضافی کام کا بوجھ، کام کی طویل مدت ہر ایک کا مسئلہ ہے۔لمبی ڈیوٹی کی وجہ سے کئی بار پولیس اہلکار اور افسران دو تین دن تک گھر نہیں جا پاتے خاص کر تہواروں پر پولیس محکمہ پر کام کا بوجھ زیادہ رہتا ہے. دیوالی اور گنپتی فیسٹیول جیسے تہوار میں گھر سے دور رہنا ذہنی تناو کا سبب ہوتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…