جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

چودھری ظہور الہیٰ نے 65ء کی جنگ میں جنرل ایوب کو 3 لاکھ کیوں دیے؟ نورجہاں کو سونے کا تاج کس نے پہنایا؟ سابق نیول چیف ایڈمرل محمد شریف پرانی یادیں تازہ کردیں

datetime 7  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) سابق چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمد شریف نے پاکستان کیلئے جان قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں یوم دفاع پر اسلام آباد میں مختلف وفود سے ملاقات کی اور پرانی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ تو صرف باتیں کرتے ہیں لیکن سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے والد اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کے چچا

چودھری ظہورالٰہی شہید نے عملی کام کیا اور 65ء کی جنگ کے بعد عملی طور پر جنرل ایوب خاں کو تین لاکھ روپے کا عطیہ دیا اور کہا کہ اس سے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جائے جو صرف اور صرف جنگ میں شہید ہونیوالوں کی بیواؤں اور ورثا کی کفالت کیلئے استعمال کیا جائے اور اس فنڈ کو باقی فنڈز سے علیحدہ رکھا جائے، اس طرح کا جذبہ آج کے دور میں کم نظر آتا ہے۔ سابق نیول چیف نے جنگ ستمبر میں میڈم نور جہاں کے ملی نغموں کا خصوصی ذکر کیا جن سے ہمارے جوانوں کی ہمت و جذبہ بڑھا۔ انہوں نے بتایا کہ چودھری ظہورالٰہی شہید نے ایک پروقار تقریب منعقد کی جس میں سابق صدر وسیم سجاد کے والد جسٹس سجاد احمد جان، جسٹس انوار الحق اور بڑی تعداد میں دانشور، بیوروکریٹس اور ججز شامل تھے۔ اس تقریب میں چودھری ظہورالٰہی شہید کی جانب سے نور جہاں کو سونے کا تاج پہنایا گیا۔ ایڈمرل محمد شریف نے مزید کہا کہ آج کے دور میں ہمیں اپنے ان ہیروز کو یاد رکھنا چاہئے اور پاکستان کے دفاع کیلئے جو جوان اپنی شہادتوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ان کے خاندانوں کا بھی خاص طور پر خیال رکھا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…