جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

الزام ثابت کیے بغیر سزا دے دی گئی اور شواہد کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا ،لیگی رہنما نے نااہلی کا فیصلہ چیلنج کردیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2018 |

الزام ثابت کیے بغیر سزا دے دی گئی اور شواہد کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا ،لیگی رہنما نے نااہلی کا فیصلہ چیلنج کردیا اسلام آباد (این این آئی)مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر مملکت طلال چوہدری نے توہین عدالت کیس میں اپنی نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں طلال چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ

استغاثہ کے موقف کو اہمیت دی گئی لیکن دفاع کے موقف کو نظر انداز کیا گیا جبکہ استغاثہ کے خلاف مواد کے باوجود درخواست گزار کو شک کا فائدہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ الزام ثابت کیے بغیر سزا دے دی گئی اور شواہد کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا جو قانون کی نظر میں درست نہیں، فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے بے قاعدگیاں اور خلاف قانون پہلو موجود ہے لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ وہ سزا کے خلاف درخواست منظور کرکے فیصلہ کالعدم قرار دے۔واضح رہے کہ 2 اگست کو سپریم کورٹ نے طلال چوہدری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں عدالت برخاست ہونے تک کی سزا سنائی تھی، جس کے ساتھ ہی وہ 5 سال کیلئے نااہل ہوگئے تھے۔سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 11 جولائی کو طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔کیس کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ طلال چوہدری کی تقاریر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہیں اور یہ تقاریر آئین کے آرٹیکل 204 اور توہین عدالت آرڈینینس کے سیکشن 18 کے تحت قابل سزا ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…