جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

یہ پروفیسر 5ماہ سے مجھے ہراساںکر تا اور میرا موبائل نمبر مانگ رہا ہے، شکایت کرنے پر میرے ابو کو گرفتار کرادیا ۔۔بینظیر بھٹو یونیورسٹی نوابشاہ کی ٹاپر طالبہ کیساتھ کیا کچھ ہوتا رہا؟ منظر عام پر آتے ہوئے سنسنی خیز انکشافات کر دئیے

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک)انسپکٹر جنرل سندھ جاوید سلیمی نے شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نوابشاہ میں زیر تعلیم طالبہ کو پروفیسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا نوٹس لے کر ڈپٹی انسپکٹر جنرل ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔شہید بے نظیر آباد یونیورسٹی کے شعبہ انگلش کی فائنل ایئر کی طالبہ فرزانہ جمالی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا تھا

کہ انگلش ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر عامر علی خٹک 5 ماہ سے اسے ہراساں کر رہے ہیں اور موبائل نمبر مانگ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرزانہ جمالی نے الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے پروفیسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی بات اپنے والد صاحب کو بتائی تو انہوں نے وائس چانسلر سے ملنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے پہلے تو ملنے سے انکار کردیا اور بعد میں ان کے والد سے کہا کہ اس معاملے کو یہیں پر دبا دیں۔فرزانہ جمالی نے الزام لگایا کہ جب ان کے والد اعجاز جمالی نے وائس چانسلر سے شکایت کی تو اْن کے والد کو پولیس کے ذریعے گرفتار کرا دیا گیا۔طالبہ نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ ‘میرا تعلیمی ریکارڈ اتنا اچھا ہے، میں نے ایف پی ایس سی کا اسکریننگ ٹیسٹ دیا، جس میں 43 میں سے بمشکل 10 طلباء پاس ہوئے، جن میں سے ایک میں ہوں جبکہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں میری سیکنڈ پوزیشن ہے۔ساتھ ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟فرزانہ جمالی نے کہا کہ میرا مطالبہ یہ ہے کہ مجھے کیوں ہراساں کیا جا رہا ہے اور میرے بابا کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کیوں کٹوائی گئی ہے۔رزانہ جمالی نے الزام لگایا کہ جب ان کے والد اعجاز جمالی نے وائس چانسلر سے شکایت کی تو اْن کے والد کو پولیس کے ذریعے گرفتار کرا دیا گیا۔طالبہ نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ ‘میرا تعلیمی ریکارڈ اتنا اچھا ہے، میں نے ایف پی ایس سی کا اسکریننگ ٹیسٹ دیا، جس میں 43 میں سے بمشکل 10 طلباء پاس ہوئے، جن میں سے ایک میں ہوں جبکہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں میری سیکنڈ پوزیشن ہے۔ساتھ ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…