منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

چیف الیکشن کمشنر نے صدارتی انتخاب میں ووٹ کی رازداری کو یقینی بنانے کیلئے بڑا قدم اُٹھالیا،صوبائی الیکشن کمشنراور پریذائیڈنگ آفیسرزکوخط ارسال ،بڑے احکامات جاری

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) چیف الیکشن کمشنر نے صدارتی انتخاب میں ووٹ کی رازداری کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی الیکشن کمشنراورصدارتی انتخاب کیلئے پریذائیڈنگ آفیسرزکوخط ارسال کردیا،صدارتی انتخاب میں ووٹ کاسٹ کرنے والے رکن کیلئے اسمارٹ فون یا کسی دوسرے الیکٹرونک آلات کا استعمال روکنے کیلئے ضابطہ اخلاق پرسختی سے عملدرآمد کا حکم جاری کردیا۔

چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے صدارتی انتخاب کرانے کیلئے مامور افسران کو ہدایت کی ہے کہ صدارتی انتخاب میں ووٹ کی رازداری کو ہرقیمت پر یقینی بنایا جائے۔اپنے ایک خط میں انہوں نے سندھ اسمبلی کے پریذائیڈنگ افسراورالیکشن کمیشن کے حکام سے کہاہے کہ صدارتی انتخابات کے دوران نیشنل اسمبلی، سینیٹ یا صوبائی اسمبلیوں کے کسی رکن کو اپنا اسمارٹ فون یا کسی دوسرے الیکٹرانک آلات کو اس جگہ پر لے جانے کی اجازت نہ دی جائے اورصدارتی انتخاب کے موقع پربیلٹ پیپرز کی کوئی تصاویر نہیں بننی چاہئے اورووٹ رازداری کو برقرار رکھنے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں جبکہ صاجبہ اخلاق پرسختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ دوسری جانب صدارتی انتخاب کے سلسلہ میں سندھ اسمبلی کوپولنگ بوتھ بنانے کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد صوبائی الیکشن کمشنرسندھ نے سندھ اسمبلی کا دورہ کیا ہے جبکہ کل سندھ اسمبلی میں پولنگ انتظامات کوحتمی شکل دے دی جائے گی۔ سندھ اسمبلی میں صدارتی انتخاب کیلئے 65 ووٹرزہیں صدارتی انتخاب کے فارمولے کے تحت سندھ اسمبلی کے مجموعی ارکان 168 کوبلوچستان اسمبلی کے 65 ارکان کے مساوی شمارکیا جائے گا اورسندھ اسمبلی میں 2اعشاریہ 28 ارکان کا ایک صدارتی ووٹ شمارہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر نے صدارتی انتخاب میں ووٹ کی رازداری کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی الیکشن کمشنراورصدارتی انتخاب کیلئے پریذائیڈنگ آفیسرزکوخط ارسال کردیا،



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…