منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

95پل،11فلائی اوور اور6ٹنلز، چینی کمپنی نے پاکستان کی نئی اہم ترین موٹر وے کی تعمیر کی تکمیل کی ڈیڈ لائن دیدی، زبردست اعلان

datetime 31  اگست‬‮  2018 |

حو یلیا ں(آئی این پی ) چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے علمبردار منصوبہ حویلیاں تا تھاہ کوٹ موٹروے کی تعمیر مارچ2020میں مکمل کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے ، مذکورہ منصوبہ 1.3ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جو کہ شاہراہ قراقرم کی مؤثر طریقے سے تعمیر کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار چائنا کمیونیکیشن کنسٹرکشن کمپنی کے پراجیکٹ منیجر چو چیانگ فان نے جمعہ کو میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

چو چیانگ فان نے کہا کہ جدید مشنری ، بہترین ٹیکنالوجی اور پاکستانی وچینی انجینئرز کی مشترکہ کاوشوں کیساتھ قراقرم ہائی وے فیز ٹو حویلیاں تا تھاہ کوٹ مارچ2020میں کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا جائے گا جو کہ شاہراہ قراقرم کی مؤثر تکمیل کیلئے ایک بہترین سنگ میل ثابت ہوگا، منصوبے پر 1.3ارب ڈالرز کی لاگت آئیگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ کے تحت اب تک 1637چینی شہریوں جبکہ 7097پاکستانی ملازمین کو ملازمت کے مواقع میسر ہوئے ہیں جس سے مقامی افراد کو اپنے معاشی حالات بہتر کرنے میں اور جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں مدد ملی ہے ۔مذکورہ منصوبہ سی پیک کے ابتدائی منصوبوں میں شامل ہے جسکی لمبائی 120کلومیٹر ہے ، منصوبہ کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جا رہا ہے تا کہ حویلیاں سے تھاہ کوٹ کی جانب روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں سفر کرنے والے شہریوں کو سفر کی بہترین سہولیات میسر آسکیں اور تجارت میں اضافہ ہو ۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ کی تکمیل تک مقامی شہریوں کیلئے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے ، اب تک 50فیصد منصوبے پر کام مکمل کر لیا گیا ہے اور اسے وقت سے پہلے مکمل کرنے کیلئے تین مرحلوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ حویلیاں سے ایبٹ آباد تک ہے جس کی لمبائی 27کلومیٹر بنتی ہے ، دوسرا مرحلہ ایبٹ آباد سے مانسہرہ تک کی تعمیر ہے جو کہ 11کلومیٹر کی لمبائی پر محیط ہے جبکہ تیسرے مرحلے میں مانسہرہ سے تھاہ کوٹ تک کام کیا جا رہا ہے جس کی لمبائی 78کلومیٹر سے زائد ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہراہ کی تعمیر کیلئے 200پہاڑیوں کو جدید مشنری کے ذریعے کاٹا گیا تاہم دونوں ممالک پر مشتمل انجینئرز نے عزم وہمت کی مثال قائم کرتے ہوئے لگن کیساتھ اپنا کام مکمل کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے میں 95پل،11فلائی اوور اور6ٹنلزتعمیر کیے جا رہے ہیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…