ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ترک کمپنی نے القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کو اپنی اشتہاری مہم کا حصہ بناڈالا

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

انقرہ۔۔۔۔ترکی میں کاسمیٹکس اور دیگر زیبائشی مصنوعات بنانے والی ایک کمپنی نے نائن الیون واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں قید القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کو اپنی اشتہاری مہم کا حصہ بناڈالا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کاسمیٹکس اور دیگر زیبائشی مصنوعات بنانے والے ایک ترک ادارے ’’ایپیلا کاسمیٹکس کمپنی ‘‘نے غیر ضروری بالوں سے نجات کے لئے تیار کی گئی اپنی مصنوعہ کے اشتہار میں 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینیٹر اور پینٹاگون پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ کہے جانے والے القاعدہ رہنما خالد شیخ محمد کی اس وقت کی تصویر استعمال کی ہے جو 2003 میں ان کی پاکستان سے گرفتاری کے موقع پر لی گئی تھی۔ تصویر میں خالد شیخ محمد کو ایک بنیان میں دکھایا گیا ہے اور اس میں ان کے جسم کے بال نمایاں ہیں۔ کمپنی نے اس تصویر کے ساتھ جو عبارت چسپاں کی ہے وہ ’’یہ بال خود بخود نہیں جھڑیں گے‘‘ ہے۔اشتہاری مہم میں خالد شیخ محمد کی تصویر شامل کئے جانے کے حوالے سے کمپنی کے ترجمان مہمت کان یلدیز نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ ان کے ادارے نے اس تصویر کا انتخاب شدت پسندی میں ملوث ہونے پر نہیں بلکہ جسم پر بہت زیادہ بال ہونے کے باعث کیا، اشتہاری مہم کا حصہ بنائے جانے سے قبل کمپنی کو خالد شیخ محمد کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا، کمپنی کی تشہیری مہم چلانے والوں نے یہ تصویر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ سے لی تھی جہاں اس تصویر کے ساتھ ہی دیگر کئی دلچسپ عبارات بھی تحریر تھیں، اسی وجہ سے کمپنی نے سوچا کہ ان کی مصنوعہ کی تشہیر کے لئے اس سے بہتر تصویر کوئی دوسری نہیں ہوسکتی۔واضح رہے کہ شیخ خالد محمد کیوبا کے قریب گوانتاناموبے میں امریکا کے بدنام زمانہ قید خانے میں گزشتہ کئی برسوں سے قید ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…