جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

انسانی حقوق کے پانچ کارکن گرفتار، سپریم کورٹ کی مودی حکومت سے جواب طلبی

datetime 30  اگست‬‮  2018 |

نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک)بھارت میں انسانی حقوق کے پانچ معروف کارکنوں کی گرفتاری پر شدید احتجاج کے بعد ملکی سپریم کورٹ نے ان افراد کو چھ ستمبر کو اگلی سماعت تک گھر پر نظر بند رکھنے اور اس معاملے میں حکومت کو اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق حقوق انسانی کے کارکنوں کی گرفتاری کو اظہارِ رائے کی آزادی کو کچلنے اور وزیر اعظم

نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر نکتہ چینی کرنے والوں کی آواز کو دبانے کے لیے کی گئی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اس بارے میں حکم دیاکہ اختلاف رائے جمہوریت میں سیفٹی والو کی طرح ہے۔ اگر اختلاف رائے کی اجازت نہ دی گئی، تو پریشر کْکر پھٹ بھی سکتا ہے۔حقوق انسانی کے پانچ معروف کارکنوں وکیل سدھا بھردواج، بائیں بازو کے نظریہ ساز اور شاعر وراورا راؤ، ارون فریرا، ورنن گونزالیز اورگوتم نولکھا کو مہاراشٹر پولیس نے منگل کے روز ملک کے مختلف حصوں میں چھاپے مار کر گرفتار کر لیا تھا۔ ان گرفتاریوں کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت تقریباً دو درجن تنظیموں کے علاوہ وکلاء، اساتذہ، مزدوروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ملک کی کئی اہم شخصیات نے بھی اس اقدام پر کڑی تنقید کی تھی۔معروف مؤرخ رومیلا تھاپر، دیوکی جین، پربھات پٹنائک،ستیش دیش پانڈے اور مایا دارو والا نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر کے چیف جسٹس دیپک مشرا سے درخواست کی تھی کہ معاملے کی اہمیت کے پیش نظر اس پر فوری سماعت کی جائے۔ اس درخواست میں ان کارکنوں کی فوری رہائی کی اپیل اور ان گرفتاریوں کی آزادانہ چھان بین کرانے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے بدھ کی شام اپنے ایک حکم میں کہا کہ اس معاملے کی اگلی سماعت تک حقوق انسانی کے ان پانچوں کارکنوں کو ان کے گھر پر نظر بند رکھا جائے۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت اب چھ ستمبر کو ہو گی۔دوسری طرف حقوق انسانی کے ان پانچ سرکردہ کارکنوں کی گرفتاری پر بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاست مہاراشٹر کی حکومت سے چار ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔ کمیشن نے صوبائی ڈائریکٹر جنرل پولیس سے یہ بھی پوچھا ہے کہ آخر ان لوگوں کو کیوں گرفتار کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…