منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

سینیٹ میں اپوزیشن نے پہلے ہی اجلاس میں حکومت کو بے بس کر دیا ،شاہ محمود قریشی کے ساتھ ایسا کام ہوگیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا،حکمران جماعت کو شدید شرمندگی کا سامنا

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ میں اپوزیشن نے پہلے ہی اجلاس میں حکومت کو بے بس کر دیا۔ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد حکومت سینیٹ میں کورم پورا نہ کر سکی جسکی وجہ سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑنا پڑی اورکورم پورا نہ ہونے پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے اجلاس منگل 11  بجے تک ملتوی کر دیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کی سینیٹ میں تقریر پر اپوزیشن ارکان کی جوابی تقاریر سنے بغیر ایوان سے چلے جانے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔پیر کو سینیٹ اجلاس ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا،حکومت سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد پہلے سینیٹ اجلاس میں وزیر اعظم نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔بعد ازاں سینیٹر میاں رضا ربانی نے ایوان میں وزیراعظم کے بیان پر بات کرنا چاہی توڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے انہیں ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد بات کرنے کا کہا مگر اس دوران وزیر اعظم عمران خان ایوان سے چلے گئے جس پر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کو ایوان میں ہونا چاہیے جس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اعظم خان سواتی کو کہا کہ کیا آپ وزیراعظم کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایوان میں آئیں کچھ ارکان بات کرنا چاہتے ہیں جس پر اعظم خان سواتی ایوان سے باہر چلے گئے تاہم اس دوران اپوزیشن ارکان مسلسل احتجاج کرتے رہے ۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ وزیراطلاعات نے وزیراعظم سے سرگوشی کی ہے جس کے بعد وہ گئے ہیں وزیراعظم کو یہاں ہونا چاہیے ۔ اس موقع پروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بات کرنی چاہی تاہم اپوزیشن ارکان نے شاہ محمود قریشی کی بات سننے سے انکار کردیا ۔ بعد ازاں وزیراعظم کے ایوان میں نہ آنے پر اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے اپنی گفتگو جاری رکھی جس پر سینیٹر چوہدری تنویر اور سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے 5منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائیں جس کے بعد ارکان کی گنتی کی گئی تاہم کورم پورا نہ ہوا جس پر ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس آج تک کیلئے ملتوی کردیا۔قبل ازیں حکومتی سینیٹر اعظم سواتی کواپوزیشن کی مخالفت پر اپنا بل واپس لینا پڑا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…