پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر کی گاڑی کیوں روکی؟ڈی پی اوپاکپتن کو سخت سزا سنا دی گئی

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

پاکپتن،لاہور(اے این این ،سی پی پی ) وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے والے ڈسٹرکٹ پولیس افسر(ڈی پی او)کا ٹرانسفر کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق پولیس نے جمعرات 23 اگست کو خاور مانیکا کو ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا لیکن وہ نہ رکے، لیکن جب پولیس نے ان کی کار کو روکا تو انہوں نے غلیظ زبان استعمال کی۔ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد

حکومت پنجاب نے ریجنل پولیس افسر(آر پی او)اور ڈی پی او رضوان گوندل کو جمعہ 24 اگست کو طلب کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق اس موقع پر ڈی پی او رضوان گوندل کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگنے کا حکم دیا گیا، تاہم ڈی پی او رضوان نے یہ کہہ کر معافی مانگنے سے انکار کردیا کہ اس میں پولیس کا کوئی قصور نہیں۔بعدازاں رضوان گوندل نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھی خاور مانیکا سے معافی مانگنے سے انکار کے موقف سے آگاہ کردیا۔جس پر ان کا تبادلہ کر دیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ۔دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے آر پی او اور ڈی پی او کو طلب کرکے دونوں افسران کو معاملہ ختم کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم رپورٹ نہ دینے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے خاور مانیکا کی طرف سے اس حوالے سے کوئی درخواست نہیں دی گئی۔دوسری جانب انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام نے کہا کسی دباؤ پر نہیں بلکہ واقعہ کے متعلق غلط بیانی پر ڈی پی او پاکپتن رضوان عمر گوندل کا تبادلہ کیا ہے ۔ شہری سے پولیس اہلکاروں کی بد تمیزی کے واقعہ کے متعلق جب ڈی پی او رضوان عمر گوندل سے پوچھا گیا تو انہوں نے بار بار غلط بیانی سے کام لیا اور ٹرانسفرآرڈر کو غلط رنگ دے کر سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیا جس پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام نے ڈی پی او پاکپتن رضوان عمر گوندل کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیدیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام نے اپنے ایک بیان میں واقعہ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بطور پولیس افسر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنانے اور غلط بیانی پر رضوان عمر گوندل کو تبدیل کیا گیا ،جسے کسی اور رنگ میں بیان کرنا مناسب نہیں ہے ۔ڈی پی او رضوان عمر گوندل کے غیر ذمہ دارانہ اقدام سے محکمہ پولیس کے وقار کوبھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مس کنڈکٹ اور سینئرز کو مس گائیڈ کرنے والے افسران و اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں اور شہریوں سے بدتمیزی اور کسی زیادتی کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی میں کوئی رعائیت نہیں برتی جائیگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…