جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کا عراق سے پہلی خلیجی جنگ کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ

datetime 20  اگست‬‮  2018 |

تہران/بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک)ایرانی عہدے داران نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1980ء کی دہائی میں ایران کے ساتھ آٹھ سال تک جاری رہنے والی جنگ کا بھاری زرِ تلافی ادا کرے۔پہلی خلیجی جنگ کے زرِ تلافی سے متعلق تہران کی جانب سے یہ مطالبات عراقی وزیراعظم کے اْس اعلان کے بعد سامنے آ رہے ہیں جس میں حیدر العبادی کا کہنا تھا کہ اْن کا ملک ایران پر امریکی پابندیوں پر عمل درامد کرے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سربراہ حشمت پیشہ نے زور دیا ہے کہ عراق پر لازم ہے کہ وہ ایران کو جنگ کا ہرجانہ ادا کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراقی عہدے داران نے اس امر کو قطعی طور پر مسترد نہیں کیا ہے۔حشمت پیشہ اور ایرانی پارلیمنٹ میں بعض ذمّے داران کی جانب سے جس زر تلافی کا مطالبہ کیا گیا ہے اْس کا اندازہ 1100 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ یہ رقم 2003ء سے اب تک عراق کے سالانہ بجٹوں کی مجموعی رقم سے بھی زیادہ ہے۔عراق کی طرف سے ایران کو جنگ کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کرنے والے عہدے داران 1991ء میں اقوام متحدہ کی قرارداد 598 کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس قرارداد میں عراق کے سابق صدر صدام حسین کو جنگ شروع کرنے کا ذمّے دار ٹھہرایا گیا تھا۔ تاہم قرارداد میں عراق کی طرف سے ایران کو رقم ادا کرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔مذکورہ ایرانی مطالبات اور دعوؤں نے عراق میں غصّے اور اندیشے کی لہر دوڑا دی ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں آنے والی حکومت ایرانی مطالبات کو تسلیم کر کے عراقی معیشت کو درپیش مسائل کے حجم میں اضافہ نہ کر دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…