منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ریکارڈ حج درخواستوں سے حکومت کو 70 ارب روپے وصول

datetime 11  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)سرکاری حج اسکیم کے تحت ریکارڈحج درخواستیں موصول ہوئیں ہیں، سرکاری اکاؤنٹ میں 70ارب روپے جمع ہوگئے جس پرحکومت کو کروڑوں روپے منافع حاصل ہوگا، گروپ ا رگنائزرز اور مختلف طبقہ فکرسے تعلق رکھنے والی شخصیات نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ قرعہ اندازی کے عمل کوشفاف بنایاجائے۔ذرائع کے مطابق سرکاری حج اسکیم کاکوٹا 71ہزار تھالیکن بینکوں میں 2لاکھ 70ہزار سے زائدحج درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ کراچی، کوئٹہ اور سکھر سے حج اخراجات علاوہ قربانی 255971اور قربانی کے ساتھ 270181تھے جبکہ پشاور، اسلام اباد، لاہور، ملتان ، رحیم یارخان، فیصل اباد سے حج اخراجات علاوہ قربانی 264971 اور قربانی کے ساتھ 279181تھے۔ اس حساب سے حکومت کوموصول ہونے والی 2لاکھ 70 ہزار سے زائد درخواستوں کی رقم تقریباً 70ارب روپے بنتی ہے۔ اس رقم پرحکومت کوبینکوں سے صرف ایک ماہ میں 5کروڑ روپے سے زائد منافع حاصل ہوگا۔
مجلس درس پاکستان کے چیئرمین الحاج محمد سعید صابری نے ریکارڈدرخواستوں کی وصولی پرمسرت کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر حکومت حج اخراجات کم کردے تو حج درخواستیں ساڑھے3 سے 4لاکھ تک بھی جمع ہوسکتی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ حج درخواستوں کی اتنی بڑی تعداد میں وصولی سے اندازہ ہوتاہے کہ لوگوں میں فریضہ حج کی ادائیگی کارجحان تیزی سے بڑھ رہاہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ حج قرعہ اندازی کے عمل کوشفاف بنایا جائے اور حجازمقدس میں عازمین حج کوتمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔
حج عمرہ وزیارات کمیٹی کے چیئرمین علامہ محمدعون نقوی نے بھی ریکارڈ حج درخواستوں کی وصولی کوخوش ائند قراردیا اورکہا کہ حج قرعہ اندازی کے عمل کوشفاف بنایا جائے اورعازمین حج کوتمام سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ابھی سے انتظامات شروع کر دیے جائیں۔ انھوں نے کہاکہ جولوگ گزشتہ سال فریضہ حج پرنہیں جاسکے تھے انھیں بھی بھجوانے کے لیے انتظامات کیے جائیں اوررہائش گاہیں حرم سے قریب حاصل کی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…