ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس:اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف زرداری سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا

datetime 18  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کے کیس میں سابق صدر آصف زرداری کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔گزشتہ روز کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سابق صدر آصف زرداری سمیت کیس میں نامزد 15 مفرور ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے۔

ہفتہ کو سابق صدرآصف علی زرداری نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد حفاظتی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔سینئر وکلا اعتزازاحسن اور لطیف کھوسہ کے توسط سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ ٹرائل کورٹ میں پیش ہوناچاہتا ہوں، گرفتاری کا خدشہ ہے اس لیے حفاظتی ضمانت دی جائے۔درخواست میں مزید استدعا کی گئی ایف آئی اے کی انکوائری میں پیش ہونے کے لیے بھی ضمانت دی جائے۔سابق صدر کی درخواست سماعت کیلئے امقرر کی گئی جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اِن چیمبر سماعت کی۔اس موقع پر آصف علی زرداری عدالت میں پیش ہوئے، ان کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری بھی ان کے ہمراہ تھیں، درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر آصفہ بھٹو کو کمرہ عدالت میں ہی روک دیا گیا اور چیمبر میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری کی حفاظتی ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی جس کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا۔آصف علی زرداری کی دو ہفتوں کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کی گئی ہے، انہیں عدالت نے 3ستمبر تک بینکنگ کورٹ کراچی کے سامنے پیش ہونے کا حکم بھی دیا ہے۔

آصف علی زرداری سے عدالت میں پیشی کے موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ عدالتوں میں پھر رہے ہیں، بتائیں اس طرح کی کارروائیاں آپ کے خیال میں کیوں ہو رہی ہیں؟جس پر سابق صدر آصف علی زرداری مسکرائے اور انہوں نے جواب دیا کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔واضح رہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کے کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور بھی نامزد ہیں جبکہ نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی اور طحہٰ رضا جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، اس کے علاوہ فریال تالپور سمیت کیس کے 4 ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کیلئے عبوری ضمانت لے رکھی ہے، ایف آئی اے نے کیس میں سابق صدر آصف زرداری سمیت 20 ملزمان کو مفرور قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…