جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ملائیشیا میں ’جھوٹی خبروں‘ سے متعلق قانون ختم کر دیا گیا

datetime 18  اگست‬‮  2018 |

کوالالمپور(انٹرنیشنل ڈیسک)ملائیشیا کی پارلیمنٹ نے سابق دور حکومت میں بنایا گیا جھوٹی خبروں سے متعلق قانون ختم کر دیا۔سابق ملائیشین وزیراعظم نجیب رزاق کی حکومت نے رواں برس اپریل میں اینٹی فیک نیوز بل 2018 منظور کیا تھا جس کے تحت ایک لاکھ 23 ہزار ڈالر جرمانہ یا 6 سال تک سزا دی جا سکتی تھی۔ناقدین کی جانب سے اس بل کی سخت مخالفت کی گئی تھی۔

اور اسے ملائیشیا میں مئی میں ہونے والے عام الیکشن سے قبل آزادی اظہار کو سلب کرنے کی کوشش قرار دیا گیا تھا۔عام انتخابات میں نجیب رزاق کو سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی سربراہی میں بننے والے اپوزیشن اتحاد کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور مہاتیر محمد نے اس قانون کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔پارلیمنٹ میں اس حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد پر تین گھنٹے تک بحث کی گئی اور پھر اس بل کو ختم کرنے کی منطوری دیدی گئی ٗآسیان کی پارلیمنٹ کے رکن ٹیڈی بگوئی لات نے اس قانون کو ختم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون واضح طور پر حکام کے خلاف تنقید کو خاموش کرانے اور عوامی بحث و مباحثے کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔خیال رہے کہ ملائیشیا کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا تھا جہاں جھوٹی خبروں سے متعلق قانون موجود تھا جبکہ خطے کے دوسرے ممالک جیسے سنگاپور اور فلپائن اس حوالے سے سوچ بچار کر رہے ہیں کہ کس طرح سے جھوٹی خبروں سے نجات حاصل کی جائے ٗجرمنی نے بھی گزشتہ برس سوشل میڈیا نیٹ ورک سے نفرت انگیز پوسٹس نہ ہٹانے پر جرمانہ لگانے کا ایک منصوبہ منظور کیا تھا۔ملائیشیا کے موجودہ وزیراعظم مہاتیر محمد کے خلاف بھی انتخابات سے قبل جہاز کو اغواء کرنے کے جھوٹے دعوے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…