جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اٹلی اور فرانس کے درمیان موٹروے پر پُل اچانک منہدم:30 افراد ہلاک

datetime 15  اگست‬‮  2018 |

روم(انٹرنیشنل ڈیسک)فرانس اور اٹلی کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ پر ایک پل اطالوی شہر جینو ا میں شدید طوفان باد وباراں کے دوران میں اچانک گر گیا ہے جس کے نتیجے میں 30 افرا د ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوگئے ہیں ۔اٹلی کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق فرانس اور اٹلی کے درمیان موٹروے پر واقع مورانڈی پْل قریباً تین سو فٹ ( 90 میٹر) اونچا تھا اور 260 فٹ ( 80 میٹر) طویل تھا۔

منگل کے روز پل ٹوٹنے کے بعد کاروں اور ٹرکوں سمیت بیس گاڑیاں نیچے گہرائی میں عمارتوں پر جا گریں۔ایک امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ پل سے گرنے والی گاڑیاں پچک کر رہ گئی ہیں اور بعض مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ان سے دو افراد کو زندہ حالت میں نکال لیا گیا ہے اور انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال میں منتقل کیا جارہا ہے۔اٹلی کی وزارت داخلہ نے اس حادثے میں گیارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ایک نجی نشریاتی ادارے اسکائی ٹی جی 24 نے اطلاع دی ہے کہ مورانڈی پل کا 200 میٹر ( 650 فٹ ) حصہ ایک صنعتی زون پر منہدم ہو کر گرا ہے اور اس کا ٹنوں وزنی لوہا اور کنکریٹ کا ملبہ نیچے واقع گوداموں پر گرا ہے۔اٹلی کی خبررساں ایجنسی انسا کا کہنا ہے کہ پل کا ڈھانچا کمزور ہوچکا تھا ،اسی لیے وہ دھڑام سے نیچے آ گرا ہے۔تاہم حکام نے فوری طور پر حادثے کے اسباب کی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ پل کیوں گرا ہے۔اٹلی کے ٹرانسپورٹ کے وزیر ڈانیلو ٹونینلی نے اس کو ایک بڑا المیہ قرار دیا ہے۔جائے حادثہ پر قریباً 200 فائر فائٹر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔جس شاہراہ پر پل گرا ہے، یہ اٹلی اور فرانس کو ملانے کے علاوہ میلان اور دوسرے شمالی شہروں کو لیگوریا کے ساحل سمندر سے بھی ملاتی ہے۔اس پل کا 1967ء میں افتتاح کیا گیا تھا۔یہ حادثہ اٹلی میں موسم گرما کی بدھ کو فیرا گوسٹو کی بڑی چھٹی سے ایک روز قبل پیش آیا ہے۔ اس چھٹی کے روز ٹریفک کا معمول سے زیادہ رش ہوتا ہے اور اطالوی شہری اپنے علاقوں سے سواحل سمندر اور پہاڑوں کا رْخ کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…