جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ہم بنگلہ دیش کے دراندازوں کو آسام یا اپنے ملک میں کسی بھی جگہ رہنے نہیں دیں گے،بھارت کی بنگلہ دیش سے بھی ٹھن گئی، دھماکہ خیز اقدامات کا اعلان

datetime 14  اگست‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں حکمران ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے ایک رہنما ء نے کہاہے کہ پڑوسی ملکوں سے آنے والے ہندوؤں کو بھارت میں شہریت دی جائے گی لیکن ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم مبینہ دراندازوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق دراندازی کے متعلق بی جے پی کے ملکی صدر امیت شاہ کے اس بیان کو آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کے

سب سے اہم انتخابی موضوع کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دوسری طرف ان کے بیان کی مخالفت بھی شروع ہوگئی ہے۔امیت شاہ نے اترپردیش کے میرٹھ شہر میں پارٹی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندو، سکھ، پارسی، جین، بودھ اور کسی دیگر فرقہ کے ایسے افراد جو ہمارے پڑوسی ملکوں یعنی بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان میں رہ رہے ہیں اور وہاں کسی طرح کی زیادتی کا شکار ہیں تو انہیں بھارت کی شہریت دی جائے گی ،بی جے پی کے ملکی صدر نے شہریت دینے کے طریقہ کار کی تشریح کرتے ہوئے کہاکہ ان ملکوں سے آنے والے ہندوؤں کو پہلے پناہ گزین کی حیثیت دی جائے گی اور اس کے بعد بھارت کی شہریت دے دی جائے گی اور دراندازوں کو ملک سے نکال باہر کیا جائے گا۔امیت شاہ نے کہاکہ ملک کے ہر شہری کو یہ جاننے کا حق ہے کہ کون بھارت کا شہری ہے اورکون درانداز ہے۔ وفاقی حکومت نے آسام میں ایسے چار ملین سے زیادہ لوگوں کی نشاندہی کی ہے اور انہیں ملک سے نکال دیا جائیگا۔ ہم بنگلہ دیش کے دراندازوں کو آسام یا اپنے ملک میں کسی بھی جگہ رہنے نہیں دیں گے لیکن ہندو شرنارتھیوں (پناہ گزینوں) کا بھرپور احترام کیا جائے گا۔بی جے پی صدر امیت شاہ کے اس بیان پر اپوزیشن کانگریس پارٹی نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے سینیئر لیڈر اور سابق وفاقی وزیر ششی تھرور نے ایک بیان میں کہاکہ کچھ لوگ چار ملین افراد کو بھارت سے باہر بھیجنے کی بات کر رہے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کے بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ بنگلہ دیش نے واضح کردیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی شخص کی ذمہ داری نہیں لے سکتا جو اس کی سر زمین پر نہیں رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…