ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

نئی حکومت سے قبل بیوروکریٹس سی پیک کے قرض کی ادائیگی کی تیاریوں میں مصروف، جانتے ہیں ( ن) لیگ حکومت مدت ختم ہونے پر کتنی رقم کے منصوبے مکمل کرکے گئی؟

datetime 12  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (سی پی پی)نئی حکومت سے قبل بیوروکریٹس بیل آؤٹ پیکیج بالخصوص پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک)کے قرض کی ادائیگی کی تفصیلات کے حوالے سے کام کرنے میں مصروف ہیں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بیورو کریٹس کی جانب سے تیار ہونے والے خاکے سے 2018 سے 2023 تک زرمبادلہ کے لیے اقدامات کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 47 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا تھا جس میں سے مسلم لیگ(ن)کی حکومت کے اختتام تک 22 ارب ڈالر کے منصوبے کے معاہدوں کی تکمیل ہوچکی ہے۔توانائی سیکٹر میں 12 ارب 25 کروڑ ڈالر کے منصوبے کے معاہدے مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ 11 ارب 34 کروڑ ڈالر کے منصوبوں کے معاہدوں کی تکمیل اب تک نہیں ہوئی۔توانائی شعبے میں ہی 6 منصوبے فعال ہو چکے ہیں اور ان سے بجلی کی پیدوار بھی شروع ہوگئی ہے جس کے باعث پاکستان پر ان منصوبوں کی ادائیگی واجب الادا ہوچکی ہے جو رواں مالی سال ادا کی جائے گی۔اب تک پن بجلی کے تین، کوئلے کے 2 اور شمسی توانائی کے ایک منصوبے سے 3 ہزار 8 سو 39 میگا واٹ بجلی کی پیداوار جاری ہے۔تاہم ان منصوبوں سمیت دیگر منصوبوں کی ادائیگی 25 سے 30 سال کے عرصے پر محیط ہے، جس کی اقساط ایک سال میں 2 مرتبہ ادا کی جائے گی، تاہم تخمینہ لگایا گیا ہے کہ سی پیک کے منصوبے کے ششماہی قسط 7 کروڑ 15 لاکھ ڈالر ادا تک ہو سکتی ہے۔وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ میں موجود ذرائع نے بتایا کہ رقوم کی ادائیگی چینی کرنسی میں بھی کی جاسکتی ہے، تاہم منصوبوں کی ادائیگی تب شروع ہوگی جب منصوبے مکمل طور پر فعال ہوجائیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ سڑکوں، ریلوے، ماس ٹرانزٹ، پی ایس ڈی پی یا ایس پی ای سی اور گوادر کا کوئی بھی منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔پہلے سے قرض لی ہوئی رقم کی ادائیگی کے متبادل منصوبے کے طور پر نئی حکومت کو متعدد تجاویز پیش کی جائیں گی۔واضح رہے کہ سی پیک منصوبے کے لیے چینی قرض کی ادائیگی کا مسئلہ اس وقت منظر عام پر آیا جب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان عالمی ادارے کے بیل آٹ پیکیج کی مدد سے بھاری چینی قرضوں کو ادا کرے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…