بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان سے ملاقات کیوں کی؟ بھارتی میڈیا اپنے ہی سفیر پر برس پڑا، عمران خان پر ایسے الزامات عائد کر دئیے کہ جان کر آپ بھی آگ بگولہ ہو جائینگے

datetime 11  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی میڈیا عمران خان سے ملاقات کرنے پر اپنے ہی پاکستان میں تعینات سفیر پر برس پڑا، بھارتی کھلاڑیوں کا دستخط شدہ بلا کپتان کو تحفے میں دینے پر بھی تنقید۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا عمران خان سے ملاقات کرنے پر اپنے ہی پاکستان میں تعینات سفیر اجے بساریہ اور ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ پر برس پڑا ہے اور دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ میں اجے بساریہ اور جے پی سنگھ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت میں دہشتگردی کروانے اور سرحد پر بھارتی فوجیوں کی موت کا ذمہ دار ہے اور ہمارے ہائی کمشنر پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان کو انکی رہائش گاہ پر جا کر بھارتی ٹیم کے دستخط شدہ بلے کا تحفہ دے رہے ہیں جو کہ بھارتیوں کے خون سے کھلواڑ ہے۔ بھارتی میڈیا نے اپنے پاکستان میں تعینات ہائی کمشنر کی عمران خان سے ملاقات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی متوقع کابینہ میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو انتہا پسند ہیں جن میں شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری جو کہ متوقع وزیر خارجہ اور وزیر دفاع ہونگی جو متعدد بار بھارت پر کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی دہشتگردی کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا عمران خان کی عام الیکشن میں جیت کے بعد قوم سے پہلی تقریر پر بھی سیخ پا نظر آیا ۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں عمران خان کی پہلی تقریر میں مقبوضہ کشمیر کے ذکر اور بھارتی قابض فوج کے کشمیریوں پر مظالم کے ذکر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بھارتی تجزیہ کار اور سابق فوجی افسر میجرجنرل (ر)بخشی نے بھارتی میڈیا کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بھارت کو پاکستان سے اچھے تعلقات سے منع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت میں دہشتگردی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور بھارتی سفیر کو

عمران خان کو مبارکباد اور تحفے میں بلا دینے سے پہلے پٹھان کوٹ، اوڑی اور اپنے ملک میں ہوئے دیگر دہشتگردی کے واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد کو نہیں بھولنا چاہئے۔بھارتی میڈیا پر پاکستان کے متوقع وزیراعظم اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا دور شروع ہونے سے قبل ہی بھارتی میڈیا کی جانب سے ایک بار پھر تعلقات کو بگاڑنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…