اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان کے ہونہار نوجوان اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا کے کسی بھی ملک کے طلبہ سے کم نہیں جس کی تازہ ترین مثال پشاور کے طلبہ ہیں جنہوں نے نابینا افراد کے لئے چھڑی کی مدد کے بغیر چلنے والا خصوصی ٹوپی تیار کی ہے۔پشاور یونیورسٹی کے 4 ہونہار طلبہ علموں نے نابینا افراد کے لیے الیکٹرانک کیپ فار بلائینڈز کے نام سے ایک ایسا ہیلمٹ تیار کیا ہے جس کی مدد سے بینائی سے محروم افراد آسانی کے ساتھ چل پھر سکتے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹرانکس کے طالب علموں نے اس الیکٹرانک کیپ کو صرف 2 ماہ کی قلیل مدت میں 7 ہزار روپے کی لاگت سے تیار کیا ہے۔الیکٹرانک کیپ تیار کرنے والے طالب علموں کا کہنا ہے کہ اس ہیلمٹ نما ٹوپی کی مدد سے نابینا افراد بھی دوسرے لوگوں کی طرح روزمرہ کے کام کر سکتے ہیں۔ یہ الیکٹرانک کیپ ایک بیٹری کی مدد سے چلتی ہے، کیپ کے چاروں اطراف سینسرز لگائے گئے ہیں جو کہ راستے میں آنے والی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور رکاوٹ قریب آنے کی صورت میں آواز یا پھر وائبریشن کے ذریعے خبردار کرتی ہے، یہ آواز یا وائبریشن الیکٹرانک کیپ کے صرف ا±س ر±خ پر ہوتی ہے جس سے رکاوٹ کی نشاندہی ہوتی ہے۔پراجیکٹ سپروائزر ڈاکٹر محمد آصف کا کہنا ہے کہ یہ طالب علموں کی ایک بہت ہی اچھی کاوش ہے جس سے مستقبل میں فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ کو دوسرے مرحلے میں گوگل میپ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ یہ کیپ اور زیادہ بہتر طریقے سے کام کرسکے۔پروفیسر آصف کہتے ہیں کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے درمیان رابطوں کا بہت زیادہ فقدان ہے، بدقسمتی سے نئی ایجادات کو مارکیٹ میں متعارف نہیں کرایا جاتا جس کی وجہ سے اچھی ایجادات محض کتابوں تک محدود رہ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے کچھ اساتذہ اور طالب علموں نے بھی اس الیکٹرانک ٹوپی میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور وہ اس میں جدید سافٹ ویئر ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہیں جو بہت خوش آئند بات ہے، طالب علموں کی اس ایجاد کو نابینا افراد کی بینائی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔دوسری جانب یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے طالبعلموں نے پشاور یونی ورسٹی کے طالبعلموں کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اس ٹوپی میں رکاوٹوں سے بچنے کا نظام موجود ہے لیکن اس کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس میں چہروں کی نشاندہی کا سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا جس کی مدد سے قریب آنے والے کسی بھی فرد کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی، اس نظام کے لیے اس الیکٹرانک کیپ میں ایسا ڈیٹا بیس سسٹم متعارف کرایا جائے گا جس میں ٹوپی پہننے والے فرد کے تمام جاننے والوں کی تصاویر ہوں گی جس کی مدد سے نابینا افراد کے لئے کسی بھی فرد کی شناخت بہت آسان ہو جائے گی۔
پاکستان کے طالبعلم نے نابینا افراد کےلئے خصوصی کیپ تیار کر لی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
گرمی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
ایرانی ریال خریدنے والوں کو مرکزی بینک نے خبردار کر دیا
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
ایران امریکا جنگ: یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے
-
سوزوکی نے پاکستان میں اپنی نئی گاڑی متعارف کرا دی
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں



















































