منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

’’عمران خان کے ذمے اگر کچھ واجبات ہیں تو وہ بھی ادا کردیں‘‘ چیف جسٹس نے بابر اعوان کو ایسی ہدایت کردی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 7  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (سی پی پی)سپریم کورٹ آف پاکستان میں بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان آئندہ آنے والے وزیراعظم ہیں، لہذا بنی گالا تجاوزات کے معاملے کو وہ خود دیکھیں، یہ ان کے لیے ٹیسٹ کیس ہوگا اور عمران خان لوگوں کے لیے مثال بنیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان، سروئیر جنرل آف پاکستان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمی کو آگاہ کیا کہ بنی گالہ میں تجاوزات کے معاملے پر دفعہ 144 نافذ ہے۔ساتھ ہی انہوں نے تجویز پیش کی کہ نئی حکومت کو بنی گالہ تجاوزات سے متعلق فیصلہ کرنے دیا جائے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بنی گالا تجاوزات کی درخواست عمران خان نے ہی دی تھی، عمران خان کی حکومت بننے والی ہے، لہذا بنی گالا تجاوزات کے معاملے کو اب عمران خان خود دیکھیں۔جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان بنی گالہ کے مسائل سے آگاہ ہیں، اگر وہ بنی گالہ کے مسائل حل کر لیتے ہیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان لوگوں کے لیے مثال بنیں، بنی گالا کیس ان کے لیے ٹیسٹ کیس ہوگا،عمران خان بھی جو ریکارڈدیناچاہتے ہیں دیدیں، اگر کچھ واجبات عمران خان کے ذمہ ہیں تووہ بھی ادا کریں۔اس موقع پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ وزیراعظم لوگوں کے لیے مثال بنیں گے۔جس پر چیف جسٹس نے تصحیح کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عمران خان ابھی وزیراعظم نہیں۔

آئندہ آنے والے وزیراعظم ہیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سروے جنرل آفس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سروے جنرل آفس نے دارالحکومت اور کورنگ نالہ کی حد بندی کا سروے نہیں کیا۔سروئیرجنرل آف پاکستان نے جواب دیا کہ کورنگ نالہ کے سروے کے لیے ریکارڈ اور نقشے چاہئیں۔عدالت نے محکمہ مال راولپنڈی کی سرزنش کرتے ہوئے محکمہ مال کے سیکریٹری کو سروے جنرل آفس کو مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ محکمہ مال سروے آفس کو آج ہی مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرے جب کہ جو ریاستی ادارے تعاون نہ کریں، ان کے خلاف ایکشن لیں گے، محکمہ مال نے عدالتی احکامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سروے جنرل آفس کورنگ نالے کا سروے 6 ہفتوں میں مکمل کرے۔عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ 6 ہفتوں میں سروے مکمل ہو، مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ چائے پانی کے لیے ہم عدالت نہیں آتے،عوام ہمیں اپنے پیسہ سے تنخواہ دیتے ہیں، محکمہ مال جب تک سروے جنرل آفس کو ریکارڈ فراہم نہ کرے سپریم کورٹ سے نہیں جائیں گے۔اس کے ساتھ ہی کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…