اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

اپنی سروس کے دوران 2500 بم ناکارہ بنانے والے شہید انسپکٹر عبد الحق۔۔پڑھئے انکی بہادری کے کارنامے

datetime 5  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (سی پی پی )گزشتہ ہفتے یوم شہدا پولیس منایا گیا۔ اس دن کے مناسبت سے قوم کی جان و مال کی حفاظت میں جان کی بازی لگا دینے والے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ عوام کی جانب سے بھی شہیدہونے والے پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ان شہدا میں ایک نام انسپکٹر عبد الحق کا بھی ہے جنہوں نے اپنی سروس میں ڈھائی ہزار کے قریب بم ناکارہ بنائے۔اسنپکٹر عبد الحق بم ڈسپوزل اسکواڈ کا حصہ تھے۔

انہوں نے اپنے ساتھی انسپکٹر حکم خان کے ساتھ مل کر 2500 کے قریب بم ناکارہ بنائے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ لیکن ڈھائی ہزار بم ناکارہ بنانے کے بعد وہ خود ہی ایک بم دھماکے کا شکار ہو گئے اور شہادت کا رْتبہ پایا۔ عبد الحق 2013ء میں پشاور ڈسٹرکٹ پر ہونے والے بم حملے میں شہید ہوئے۔اس کے علاوہ 13 فروری 2017ء کو لاہور میں چئیرنگ کراس مال روڈ پر ہونے والے دھماکے کے بعد اسی رات کوئٹہ میں بھی بارودی مواد کو ناکارہ بنایا گیا۔بم ڈسپوزل اسکواڈ میں شامل کمانڈر عبد الرزاق ، جنہوں نے اپنی 23 سالہ سروس میں 500 سے زائد بارودی مواد ناکارہ بنائے ، بم ڈفیوز کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔عبدالرزاق یوں تو ایک کمانڈر تھے لیکن ان کے جونئیر انہیں ”اْستاد” کہہ کر بلاتے تھے۔ کوئٹہ کے علاقہ سبزل روڈ پر ایڈووکیٹ امیر حمزہ کے گھر کے قریب بم کو ناکارہ بناتے ہوئے عبد الرزاق ایک پولیس اہلکار کے ہمراہ جان کی بازی ہار گئے۔عبد الرزاق اپنے 7 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ عبد الرزاق کو اپنے بھانجے اور بھانجیوں سے سخت لگاؤ تھا۔ عبد الرزاق کی والدہ کا کہنا ہے کہ عبد الرزاق ایک نہایت فرمانبردار بیٹا تھا۔ اس نے شادی کرنے سے بھی انکار کر رکھا تھا۔ عبد الرزاق کا کہنا تھا کہ اگر بم ڈفیوزل کے دوران کسی دن میں شہید ہو گیا تو میرے بعد میرے خاندان کا کیا ہو گا؟

عبدالرزاق کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں اور افسران کا کہنا ہے کہ عبد الرزاق صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ کے قوانین کے خلاف بولتا تھا۔عبد الرزاق کی بہترین کارکردگی کے لیے حکومت نے انہیں مراعات بھی دیں۔ اپنی تمام تر سروس کے دوران عبد الرزاق کی محض ایک مرتبہ ترقی کی گئی جس میں عبد الرزاق کو کانسٹیبل سے ہیڈ کانسٹیبل بنا دیا گیا۔ عبد الرزاق اپنے ماتحت لوگوں کو ٹریننگ بھی دیتے تھے۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی جگہ نہیں پہنچ پاتیتھے تو فون پر ہی اپنے شاگردوں کو ہدایات دیا کرتے تھے۔عبد الرزاق کو ان کی بہادری پر 2007ء میں پاکستان پولیس میڈل اور 2010ء میں قائد اعظم میڈل سے نوازا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…